صحیح بخاری حدیث ۶۸۸۷ - آخری امت مگر قیامت میں آگے
امت محمدیہ کی فضیلت: ہم آخری مگر قیامت میں سبقت والے
صحیح بخاری : ۶۸۸۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۸۸۷
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ ، أَنَّ الْأَعْرَجَ حَدَّثَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : إِنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " نَحْنُ الْآخِرُونَ السَّابِقُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
ابوہریرہ روایت:
´ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، کہا ہم سے ابوالزناد نے بیان کیا، ان سے اعرج نے بیان کیا، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، بیان کیا کہ` انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہم آخری امت ہیں لیکن (قیامت کے دن) سب سے آگے رہنے والے ہیں۔
صحیح بخاری حدیث ۶۸۸۷ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع امت محمدیہ کی فضیلت ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہم آخری امت ہیں، مگر قیامت کے دن سب سے آگے ہوں گے۔ حدیث کے الفاظ مختصر ہیں، اس لیے اس سے اتنا ہی واضح طور پر لیا جائے گا کہ امت محمدیہ کو آخری زمانے میں بھیجا گیا، لیکن آخرت کے دن اسے ایک خاص سبقت دی جائے گی۔ اس میں مسلمانوں کے لیے فخر کے ساتھ ذمہ داری کا پہلو بھی ہے، کیونکہ فضیلت کے ساتھ دین پر قائم رہنے کی فکر بھی آتی ہے۔ یہ حدیث امید دیتی ہے، مگر اس سے کسی شخص کے لیے خود بخود نجات کا دعویٰ نہیں کیا جا سکتا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- امت محمدیہ کو ایک خاص فضیلت دی گئی ہے۔
- دنیا میں آخر میں آنا آخرت میں پیچھے رہنے کی دلیل نہیں۔
- فضیلت کے ساتھ دین پر سنجیدگی سے قائم رہنا چاہیے۔
