صحیح بخاری حدیث ۶۸۸۶ - مریض کی مرضی اور دوا کا ادب
مریض کی مرضی کا احترام: زبردستی دوا دینے کی حدیث
صحیح بخاری : ۶۸۸۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۸۸۶
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيِّ بْنِ بَحْرٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ أَبِي عَائِشَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : " لَدَدْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ ، فَقَالَ : لَا تُلِدُّونِي ، فَقُلْنَا : كَرَاهِيَةُ الْمَرِيضِ لِلدَّوَاءِ ، فَلَمَّا أَفَاقَ ، قَالَ : لَا يَبْقَى أَحَدٌ مِنْكُمْ إِلَّا لُدَّ غَيْرَ الْعَبَّاسِ فَإِنَّهُ لَمْ يَشْهَدْكُمْ " .
عائشہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ میں (مرض الوفات کے موقع پر) آپ کی مرضی کے خلاف ہم نے دوا ڈالی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے حلق میں دوا نہ ڈالو لیکن ہم نے سمجھا کہ مریض ہونے کی وجہ سے دوا پینے سے نفرت کر رہے ہیں لیکن جب آپ کو ہوش ہوا تو فرمایا کہ تم جتنے لوگ گھر میں ہو سب کے حلق میں زبردستی دوا ڈالی جائے سوا عباس رضی اللہ عنہ کے کہ وہ اس وقت موجود نہیں تھے۔
صحیح بخاری حدیث ۶۸۸۶ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع مریض کی مرضی اور علاج کا ادب ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض میں آپ کے منہ میں دوا ڈالی گئی، حالانکہ آپ نے منع فرمایا تھا۔ گھر والوں نے سمجھا کہ مریض عام طور پر دوا سے ناگواری کرتا ہے، اسی لیے آپ منع کر رہے ہیں۔ جب آپ کو افاقہ ہوا تو آپ نے اس غلط فہمی پر گرفت فرمائی اور جو لوگ گھر میں موجود تھے، ان کے ساتھ وہی عمل کرنے کا حکم دیا، سوائے عباس رضی اللہ عنہ کے، کیونکہ وہ موجود نہ تھے۔ اس سے صاف سمجھ آتا ہے کہ مریض کی بات کو سنجیدگی سے لینا چاہیے، خاص طور پر جب وہ واضح منع کر دے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مریض کی واضح بات کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔
- نیک نیتی کے باوجود غلط فہمی پر جواب دہی ہو سکتی ہے۔
- جو شخص واقعہ میں موجود نہ ہو، اسے ذمہ دار نہیں ٹھہرایا گیا۔
