صحیح بخاری حدیث ۶۸۸۵ - چاندی کے زیور کے بدلے قتل کا قصاص
چاندی کے زیور کے لالچ میں قتل اور قصاص
صحیح بخاری : ۶۸۸۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۸۸۵
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَتَلَ يَهُودِيًّا بِجَارِيَةٍ قَتَلَهَا عَلَى أَوْضَاحٍ لَهَا " .
انس بن مالک روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی کو ایک لڑکی کے بدلہ میں قتل کرا دیا تھا، یہودی نے اس لڑکی کو چاندی کے زیورات کے لالچ میں قتل کر دیا تھا۔
صحیح بخاری حدیث ۶۸۸۵ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع قصاص اور ناحق قتل ہے۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی کو ایک لڑکی کے بدلے میں قتل کرا دیا تھا، کیونکہ اس یہودی نے اس لڑکی کو اس کے چاندی کے زیورات کے لالچ میں قتل کیا تھا۔ حدیث بہت مختصر ہے، مگر اس میں دو اہم باتیں صاف ہیں: ایک یہ کہ مال کے لالچ میں کسی کی جان لینا سنگین ظلم ہے، دوسرے یہ کہ قاتل کے خلاف قصاص لیا گیا۔ اس حدیث کو پڑھتے ہوئے اصل توجہ جان کی حرمت، مال کے لالچ سے بچنے، اور قتل کے بدلے قصاص کے حکم پر رہنی چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مال کے لالچ میں قتل کرنا سخت جرم ہے۔
- لڑکی کے قتل پر قصاص لیا گیا۔
- انسانی جان کی حرمت کو مال سے بڑھ کر سمجھنا چاہیے۔
