صحیح بخاری حدیث ۶۸۸۴ - قتل کے اقرار پر قصاص
قاتل کے اقرار کے بعد قصاص کا نفاذ
صحیح بخاری : ۶۸۸۴
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۸۸۴
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ ، أَخْبَرَنَا حَبَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ " أَنَّ يَهُودِيًّا رَضَّ رَأْسَ جَارِيَةٍ بَيْنَ حَجَرَيْنِ ، فَقِيلَ لَهَا : مَنْ فَعَلَ بِكِ هَذَا أَفُلَانٌ أَفُلَانٌ ؟ ، حَتَّى سُمِّيَ الْيَهُودِيُّ ، فَأَوْمَأَتْ بِرَأْسِهَا ، فَجِيءَ بِالْيَهُودِيِّ ، فَاعْتَرَفَ ، فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَرُضَّ رَأْسُهُ بِالْحِجَارَةِ " ، وَقَدْ قَالَ هَمَّامٌ : بِحَجَرَيْنِ .
انس بن مالک روایت:
ایک یہودی نے ایک لڑکی کا سر دو پتھروں کے درمیان میں لے کر کچل دیا تھا۔ اس لڑکی سے پوچھا گیا کہ یہ تمہارے ساتھ کس نے کیا؟ کیا فلاں نے کیا ہے؟ کیا فلاں نے کیا ہے؟ آخر جب اس یہودی کا نام لیا گیا تو اس نے اپنے سر کے اشارے سے (ہاں) کہا پھر یہودی لایا گیا اور اس نے اقرار کرلیا چنانچہ نبی کریم ﷺ کے حکم سے اس کا بھی سر پتھر سے کچل دیا گیا۔ ہمام نے دو پتھروں کا ذکر کیا ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۶۸۸۴ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع قصاص ہے۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک یہودی نے ایک لڑکی کا سر دو پتھروں کے درمیان کچل دیا۔ لڑکی سے پوچھا گیا کہ یہ کس نے کیا؟ مختلف نام لیے گئے، یہاں تک کہ جب اس یہودی کا نام آیا تو لڑکی نے سر کے اشارے سے ہاں کہا۔ پھر یہودی کو لایا گیا، اس نے اقرار کر لیا، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے اس کا سر پتھر سے کچلا گیا۔ روایت میں ہمام نے دو پتھروں کا ذکر بھی کیا ہے۔ حدیث میں اشارے سے پہچان، اقرار، اور پھر قصاص کا معاملہ بیان ہوا ہے۔ اس سے قتل کی سنگینی اور انصاف کے عمل کی اہمیت سامنے آتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قتل کے معاملے میں پہچان اور اقرار کا ذکر اہم ہے۔
- قاتل کے اقرار کے بعد قصاص نافذ کیا گیا۔
- مقتول کے حق کو نظر انداز نہیں کیا گیا۔
