صحیح بخاری حدیث ۷۴۹۵ - امت محمدیہ کی فضیلت
امت محمدیہ کی فضیلت: آخری مگر قیامت کے دن آگے
صحیح بخاری : ۷۴۹۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۴۹۵
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ ، أَنَّ الْأَعْرَجَ حَدَّثَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " نَحْنُ الْآخِرُونَ السَّابِقُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
ابوہریرہ روایت:
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”گو دنیا میں ہم سب سے آخری امت ہیں لیکن آخرت میں سب سے آگے ہوں گے۔“
صحیح بخاری حدیث ۷۴۹۵ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع امت محمدیہ کی فضیلت ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دنیا میں ہم سب سے آخری امت ہیں، لیکن آخرت میں سب سے آگے ہوں گے۔ حدیث مختصر ہے، اس لیے اس کی بات بھی مختصر مگر بہت معنی خیز ہے۔ یہاں دنیا کی ترتیب اور آخرت کی فضیلت کا فرق بیان ہوا ہے۔ دنیا میں آنے کے اعتبار سے یہ امت آخر میں آئی، مگر قیامت کے دن آگے ہونے کی خوش خبری دی گئی۔ اس سے امت کے لیے عزت کا پہلو سامنے آتا ہے، مگر یہ بات غرور کے لیے نہیں بلکہ اللہ کے فضل کو سمجھنے کے لیے ہے۔ حدیث میں عمل کی تفصیل یا کوئی شرط بیان نہیں ہوئی، اس لیے اسی حد تک بات رکھنی چاہیے کہ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے مقام کی خبر ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- امت محمدیہ دنیا میں آخری ہے مگر آخرت میں سبقت کی خبر دی گئی ہے۔
- فضیلت اللہ کے فضل سے ہے، ذاتی گھمنڈ کا سبب نہیں۔
- مختصر حدیث میں امت کے مقام کا اہم پہلو بیان ہوا ہے۔
- دنیا کی ترتیب اور آخرت کی عزت الگ باتیں ہیں۔
