صحیح بخاری حدیث ۷۴۹۴ - آخری تہائی رات کی دعا

آخری تہائی رات کی دعا: کون ہے جو مجھ سے مانگے؟

صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۴۹۴

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْأَغَرِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " يَنْزِلُ رَبُّنَا تَبَارَكَ وَتَعَالَى كُلَّ لَيْلَةٍ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا حِينَ يَبْقَى ثُلُثُ اللَّيْلِ الْآخِرُ ، فَيَقُولُ : مَنْ يَدْعُونِي فَأَسْتَجِيبَ لَهُ ، مَنْ يَسْأَلُنِي فَأُعْطِيَهُ ، مَنْ يَسْتَغْفِرُنِي فَأَغْفِرَ لَهُ " .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ہمارا رب تبارک و تعالیٰ ہر رات آسمان دنیا پر آتا ہے، اس وقت جب رات کا آخری تہائی حصہ باقی رہ جاتا ہے اور کہتا ہے کہ مجھے کون بلاتا ہے کہ میں اسے جواب دوں، مجھ سے کون مانگتا ہے کہ میں اسے عطا کروں، مجھ سے کون مغفرت طلب کرتا ہے میں اس کی مغفرت کروں؟“

صحیح بخاری حدیث ۷۴۹۴ کا خلاصہ

اس حدیث کا اصل موضوع دعا اور استغفار ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہمارا رب تبارک و تعالیٰ ہر رات آسمان دنیا پر آتا ہے، جب رات کا آخری تہائی حصہ باقی رہ جاتا ہے۔ پھر فرماتا ہے: کون ہے جو مجھے پکارے کہ میں اسے جواب دوں؟ کون ہے جو مجھ سے مانگے کہ میں اسے عطا کروں؟ کون ہے جو مجھ سے مغفرت طلب کرے کہ میں اس کی مغفرت کروں؟ اس حدیث میں رات کے آخری حصے کی خاص قدر بیان ہوئی ہے۔ بندے کے لیے یہ وقت دعا، حاجت پیش کرنے اور اپنے گناہوں پر معافی مانگنے کا وقت ہے۔ حدیث میں تین کام آئے ہیں: پکارنا، مانگنا اور استغفار کرنا۔ اسی حد تک اس کا پیغام صاف اور مضبوط ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • رات کا آخری تہائی حصہ دعا کے لیے خاص وقت ہے۔
  • بندہ اللہ کو پکارے، اس سے مانگے اور مغفرت طلب کرے۔
  • حدیث میں اللہ کی طرف سے جواب، عطا اور مغفرت کا ذکر آیا ہے۔
  • رات کی تنہائی بندے کو دعا کی طرف لاتی ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں