صحیح بخاری حدیث ۶۸۹۲ - کاٹنے والے کے لیے دیت نہیں
دانت سے کاٹنے کی حدیث: زیادتی کرنے والے کے لیے دیت نہیں
صحیح بخاری : ۶۸۹۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۸۹۲
حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ زُرَارَةَ بْنَ أَوْفَى ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، أَنَّ رَجُلًا عَضَّ يَدَ رَجُلٍ ، فَنَزَعَ يَدَهُ مِنْ فَمِهِ ، فَوَقَعَتْ ثَنِيَّتَاهُ ، فَاخْتَصَمُوا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " يَعَضُّ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ كَمَا يَعَضُّ الْفَحْلُ لَا دِيَةَ لَكَ " .
عمران بن حصین روایت:
ایک شخص نے ایک شخص کے ہاتھ میں دانت سے کاٹا تو اس نے اپنا ہاتھ کاٹنے والے کے منہ میں سے کھینچ لیا جس سے اس کے آگے کے دو دانت ٹوٹ گئے پھر دونوں اپنا جھگڑا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اپنے ہی بھائی کو اس طرح دانت سے کاٹتے ہو جیسے اونٹ کاٹتا ہے تمہیں دیت نہیں ملے گی۔
صحیح بخاری حدیث ۶۸۹۲ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع دیت اور ذمہ داری ہے۔ ایک شخص نے دوسرے کے ہاتھ کو دانت سے کاٹ لیا۔ جس کا ہاتھ کاٹا گیا تھا، اس نے اپنا ہاتھ منہ سے کھینچا تو کاٹنے والے کے آگے کے دو دانت ٹوٹ گئے۔ دونوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ آپ نے فرمایا کہ کیا تم اپنے بھائی کو اونٹ کی طرح کاٹتے ہو؟ پھر فرمایا کہ تمہیں دیت نہیں ملے گی۔ اس حدیث کا پیغام بہت صاف ہے: جو شخص خود حملہ یا زیادتی شروع کرے، پھر اسی کے نتیجے میں اسے نقصان پہنچے، تو ہر صورت میں وہ معاوضے کا حق دار نہیں بنتا۔ اسلام میں فیصلہ اصل واقعہ اور ذمہ داری دیکھ کر کیا جاتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دوسرے کو دانت سے کاٹنا سخت ناپسندیدہ عمل ہے۔
- اپنی شروع کی ہوئی زیادتی کے نتیجے پر دیت لازم نہیں ہوئی۔
- فیصلہ صرف نقصان دیکھ کر نہیں، سبب دیکھ کر کیا گیا۔
