صحیح بخاری حدیث ۶۸۹۳ - کاٹنے کے مقدمہ کا فیصلہ
کاٹنے سے دانت ٹوٹنے کا مقدمہ: دیت کیوں نہ ملی؟
صحیح بخاری : ۶۸۹۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۸۹۳
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : خَرَجْتُ فِي غَزْوَةٍ ، " فَعَضَّ رَجُلٌ ، فَانْتَزَعَ ثَنِيَّتَهُ ، فَأَبْطَلَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
´ہم سے ابوعاصم نے بیان کیا، ان سے ابن جریج نے، ان سے عطاء نے، ان سے صفوان بن یعلیٰ نے اور ان سے ان کے والد نے کہ` میں ایک غزوہ میں باہر تھا اور ایک شخص نے دانت سے کاٹ لیا تھا جس کی وجہ سے اس کے آگے کے دانت ٹوٹ گئے تھے پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مقدمہ کو باطل قرار دے کر اس کی دیت نہیں دلائی۔
صحیح بخاری حدیث ۶۸۹۳ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع دیت کا فیصلہ ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ وہ ایک غزوہ میں تھے، ایک شخص نے دوسرے کو دانت سے کاٹا۔ جس شخص کو کاٹا گیا، اس نے اپنا ہاتھ چھڑایا تو کاٹنے والے کے آگے کے دانت ٹوٹ گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مقدمہ کو باطل قرار دیا اور اس کے لیے دیت نہیں دلائی۔ حدیث میں تفصیل کم ہے، مگر بات واضح ہے کہ نقصان کا سبب خود کاٹنے والے کا عمل تھا۔ اس لیے اس کے دانت ٹوٹنے پر دوسرے شخص کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا گیا۔ یہ حدیث انصاف میں سبب اور عمل کی اہمیت بتاتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- جو خود کاٹنے میں پہل کرے، اس کا دعویٰ ہر حال میں قبول نہیں ہوتا۔
- عدالتی فیصلہ واقعہ کے اصل سبب کو دیکھ کر ہوتا ہے۔
- دیت کا حکم خود بخود ہر چوٹ پر لاگو نہیں کیا گیا۔
