صحیح بخاری حدیث ۶۸۹۴ - دانت توڑنے پر قصاص
دانت توڑنے پر قصاص کی حدیث: انصاف کا واضح حکم
صحیح بخاری : ۶۸۹۴
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۸۹۴
حَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ " أَنَّ ابْنَةَ النَّضْرِ لَطَمَتْ جَارِيَةً ، فَكَسَرَتْ ثَنِيَّتَهَا ، فَأَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ بِالْقِصَاص " .
انس روایت:
نضرت کی بیٹی نے ایک لڑکی کو طمانچہ مارا تھا اور اس کے دانت ٹوٹ گئے تھے۔ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مقدمہ لائے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قصاص کا حکم دیا۔
صحیح بخاری حدیث ۶۸۹۴ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع قصاص ہے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نضر کی بیٹی نے ایک لڑکی کو طمانچہ مارا، جس سے اس کے دانت ٹوٹ گئے۔ لوگ مقدمہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے، تو آپ نے قصاص کا حکم دیا۔ اس حدیث میں واقعہ مختصر ہے، مگر حکم صاف ہے کہ جسمانی نقصان کو معمولی سمجھ کر چھوڑا نہیں گیا۔ طمانچہ ایک عمل تھا، مگر اس کے نتیجے میں دانت ٹوٹا، اس لیے معاملہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آیا اور قصاص کا فیصلہ ہوا۔ یہاں سے معلوم ہوتا ہے کہ انصاف میں متاثرہ شخص کے حق کو اہم سمجھا جاتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دوسرے کو جسمانی نقصان پہنچانا سنجیدہ معاملہ ہے۔
- نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے دانت ٹوٹنے پر قصاص کا حکم دیا۔
- فیصلہ نقصان کی حقیقت کو دیکھ کر کیا گیا۔
