صحیح بخاری حدیث ۶۸۹۷ - دوا میں مریض کی بات سننا
مریض کی بات سننا: دوا زبردستی نہ دینے کی حدیث
صحیح بخاری : ۶۸۹۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۸۹۷
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ أَبِي عَائِشَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَتْ عَائِشَةُ " لَدَدْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ وَجَعَلَ يُشِيرُ إِلَيْنَا لَا تَلُدُّونِي ، قَالَ : فَقُلْنَا : كَرَاهِيَةُ الْمَرِيضِ بِالدَّوَاءِ ، فَلَمَّا أَفَاقَ ، قَالَ : أَلَمْ أَنْهَكُمْ أَنْ تَلُدُّونِي ، قَالَ : قُلْنَا : كَرَاهِيَةٌ لِلدَّوَاءِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا يَبْقَى مِنْكُمْ أَحَدٌ إِلَّا لُدَّ وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَّا الْعَبَّاسَ فَإِنَّهُ لَمْ يَشْهَدْكُمْ " .
عبیداللہ بن عبداللہ روایت:
عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا، ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض میں آپ کے منہ میں زبردستی دوا ڈالی۔ حالانکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اشارہ کرتے رہے کہ دوا نہ ڈالی جائے لیکن ہم نے سمجھا کہ مریض کو دوا سے جو نفرت ہوتی ہے (اس کی وجہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے ہیں) پھر جب آپ کو افاقہ ہوا تو فرمایا۔میں نے تمہیں نہیں کہا تھا کہ دوا نہ ڈالو۔ بیان کیا کہ ہم نے عرض کیا کہ آپ نے دوا سے ناگواری کی وجہ سے ایسا کیا ہو گا؟ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے ہر ایک کے منہ میں دوا ڈالی جائے اور میں دیکھتا رہوں گا سوائے عباس کے کیونکہ وہ اس وقت وہاں موجود ہی نہ تھے۔
صحیح بخاری حدیث ۶۸۹۷ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع مریض کی مرضی اور علاج میں احتیاط ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض میں آپ کے منہ میں دوا ڈالی گئی، حالانکہ آپ اشارہ فرما رہے تھے کہ دوا نہ ڈالو۔ گھر والوں نے سمجھا کہ یہ دوا سے مریض کی عام ناگواری ہے۔ جب آپ کو افاقہ ہوا تو آپ نے فرمایا کہ کیا میں نے تمہیں منع نہیں کیا تھا؟ پھر آپ نے فرمایا کہ جو موجود تھے ان سب کے منہ میں دوا ڈالی جائے، اور آپ دیکھیں گے، سوائے عباس رضی اللہ عنہ کے کیونکہ وہ موجود نہ تھے۔ اس میں مریض کے واضح اشارے کو بھی سنجیدگی سے لینے کا سبق ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مریض کا اشارہ بھی سمجھ کر سنجیدگی سے لینا چاہیے۔
- غلط فہمی کے باوجود واضح منع کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔
- جو واقعہ میں موجود نہ ہو، اسے ذمہ دار نہیں ٹھہرایا گیا۔
