صحیح بخاری حدیث ۶۹۰۲ - بلا اجازت جھانکنے پر گناہ نہیں
بلا اجازت جھانکنے والے کی حدیث: گھر والوں پر گناہ نہیں
صحیح بخاری : ۶۹۰۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۹۰۲
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "لَوْ أَنَّ امْرَأً اطَّلَعَ عَلَيْكَ بِغَيْرِ إِذْنٍ ، فَخَذَفْتَهُ بِعَصَاةٍ ، فَفَقَأْتَ عَيْنَهُ ، لَمْ يَكُنْ عَلَيْكَ جُنَاحٌ " .
ابوہریرہ روایت:
ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اگر کوئی شخص تمہاری اجازت کے بغیر تمہیں (جب کہ تم گھر کے اندر ہو) جھانک کر دیکھے اور تم اسے کنکری مار دو جس سے اس کی آنکھ پھوٹ جائے تو تم پر کوئی گناہ نہیں ہے۔“
صحیح بخاری حدیث ۶۹۰۲ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع گھر کی حفاظت اور پرائیویسی ہے۔ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر کوئی شخص تمہاری اجازت کے بغیر تمہیں جھانک کر دیکھے، جبکہ تم گھر کے اندر ہو، اور تم اسے کنکری مار دو جس سے اس کی آنکھ پھوٹ جائے، تو تم پر کوئی گناہ نہیں۔ اس حدیث میں گھر والوں کے حق کو مضبوط انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ کسی کا گھر اس کی نجی جگہ ہے، اور وہاں جھانکنا اجازت کے حکم کو توڑنا ہے۔ حدیث کا مقصد لوگوں کو لاپرواہی سے روکنا ہے کہ کسی کے گھر میں نظر ڈالنے سے پہلے اجازت ضروری ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بلا اجازت جھانکنا سنگین زیادتی ہے۔
- گھر والوں کی نجی جگہ کا تحفظ کیا گیا ہے۔
- اجازت کے بغیر نظر ڈالنے والا خود ذمہ دار بنتا ہے۔
