صحیح بخاری حدیث ۶۹۰۵ - حمل گرنے کی دیت
حمل گرنے کی دیت: غرہ عبد یا امہ کا حکم
صحیح بخاری : ۶۹۰۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۹۰۵
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : أَنَّهُ اسْتَشَارَهُمْ فِي إِمْلَاصِ الْمَرْأَةِ ، فَقَالَ الْمُغِيرَةُ : " قَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْغُرَّةِ عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ ، فقال : ائْتِ مَنْ يَشْهَدُ مَعَكَ .
مغیرہ بن شعبہ روایت:
عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے ایک عورت کے حمل گرا دینے کے خون بہا کے سلسلہ میں مشورہ کیا تو مغیرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غلام یا کنیز کا اس سلسلے میں فیصلہ کیا تھا۔
صحیح بخاری حدیث ۶۹۰۵ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع حمل گرنے کی دیت ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عورت کے حمل گرا دیے جانے کے خون بہا کے بارے میں صحابہ سے مشورہ کیا۔ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس معاملے میں غلام یا کنیز کا فیصلہ فرمایا تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا کہ اپنے ساتھ گواہ لے آؤ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شرعی فیصلہ نقل کرتے وقت گواہی اور تحقیق کا اہتمام کیا گیا۔ حدیث میں دو باتیں صاف ہیں: حمل کے نقصان پر حکم موجود ہے، اور فیصلہ کرنے والے نے روایت کی تصدیق چاہی۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حمل کے نقصان پر دیت کا حکم بیان کیا گیا۔
- حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فیصلہ میں مشورہ کیا۔
- حدیث بیان کرنے والے سے گواہی طلب کی گئی۔
