صحیح مسلم حدیث ۴۳۸۷ - قصاص اور معافی کا سبق
قصاص اور معافی کی حدیث: غصے کے انجام سے بچنے کا سبق
صحیح مسلم : ۴۳۸۷
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۳۸۷
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا أَبُو يُونُسَ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، أَنَّ عَلْقَمَةَ بْنَ وَائِلٍ حَدَّثَهُ : أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ ، قَالَ : " إِنِّي لَقَاعِدٌ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ جَاءَ رَجُلٌ يَقُودُ آخَرَ بِنِسْعَةٍ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَذَا قَتَلَ أَخِي ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَقَتَلْتَهُ ، فَقَالَ : إِنَّهُ لَوْ لَمْ يَعْتَرِفْ أَقَمْتُ عَلَيْهِ الْبَيِّنَةَ ؟ ، قَالَ : نَعَمْ قَتَلْتَهُ ، قَالَ : كَيْفَ قَتَلْتَهُ ؟ ، قَالَ : كُنْتُ أَنَا وَهُوَ نَخْتَبِطُ مِنْ شَجَرَةٍ ، فَسَبَّنِي ، فَأَغْضَبَنِي ، فَضَرَبْتُهُ بِالْفَأْسِ عَلَى قَرْنِهِ فَقَتَلْتُهُ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هَلْ لَكَ مِنْ شَيْءٍ تُؤَدِّيهِ عَنْ نَفْسِكَ ؟ ، قَالَ : مَا لِي مَالٌ إِلَّا كِسَائِي وَفَأْسِي ، قَالَ : فَتَرَى قَوْمَكَ يَشْتَرُونَكَ ؟ ، قَالَ : أَنَا أَهْوَنُ عَلَى قَوْمِي مِنْ ذَاكَ ، فَرَمَى إِلَيْهِ بِنِسْعَتِهِ ، وَقَالَ : دُونَكَ صَاحِبَكَ ، فَانْطَلَقَ بِهِ الرَّجُلُ ، فَلَمَّا وَلَّى قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنْ قَتَلَهُ فَهُوَ مِثْلُهُ ، فَرَجَعَ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّكَ قُلْتَ إِنْ قَتَلَهُ فَهُوَ مِثْلُهُ ، وَأَخَذْتُهُ بِأَمْرِكَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَمَا تُرِيدُ أَنْ يَبُوءَ بِإِثْمِكَ وَإِثْمِ صَاحِبِكَ ؟ ، قَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، لَعَلَّهُ ، قَالَ : بَلَى ، قَالَ : فَإِنَّ ذَاكَ كَذَاكَ " ، قَالَ : فَرَمَى بِنِسْعَتِهِ وَخَلَّى سَبِيلَهُ .
علقمہ بن وائل روایت:
سیدنا علقمہ بن وائل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ان کے باپ نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔ اتنے میں ایک شخص آیا دوسرے کو کھینچتا ہوا تسمہ سے اور کہنے لگا: اس نے میرے بھائی کو مار ڈالا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو نے اس کو قتل کر دیا ہے؟“ بولا: اگر یہ اقرار نہ کرتا تو میں اس پر گواہ لاتا تب وہ شخص بولا: بیشک میں نے اس کو قتل کیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”تو نے کیونکر قتل کیا؟“وہ بولا: میں اور وہ دونوں درخت کے پتے جھاڑ رہے تھے اتنے میں اس نے مجھے گالی دی مجھے غصہ آیا میں نے کلہاڑی اس کے سر پر ماری وہ مر گیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے پاس کچھ مال ہے جو اپنی جان کے بدلے میں دے؟“ وہ بولا: میرے پاس کچھ نہیں سوا اس کملی اور کلہاڑی کے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”تیری قوم کے لوگ تجھے چھڑائیں گے؟“اس نے کہا: میری اتنی قدر نہیں ہے ان کے پاس، تب وہ تسمہ مقتول کے وارث کی طرف پھینک دیا وہ لے کر چلا جب پیٹھ موڑی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر وہ اس کو قتل کرے گا تو اس کے برابر ہی رہے گا۔“ (یعنی نہ اس کو کوئی درجہ ملے گا نہ اس کو کوئی مرتبہ حاصل ہو گا۔ کیونکہ اس نے اپنا حق دنیا ہی میں وصول کر لیا) یہ سن کر وہ لوٹا اور کہنے لگا: یا رسول اللہ! مجھے خبر پہنچی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میں اس کو قتل کروں گا تو اس کے برابر ہوں گا اور میں نے تو اس کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے پکڑا ہے۔“آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو یہ نہیں چاہتا کہ وہ تیرا اور تیرے بھائی کا گناہ سمیٹ لے۔“ وہ بولا: ایسا ہو گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ اس نے کہا: اگر ایسا ہے تو خیر اور اس کا تسمہ پھینک دیا اور اس کو چھوڑ دیا۔“
صحیح مسلم حدیث ۴۳۸۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں ایک واقعہ بیان ہوا ہے کہ ایک شخص دوسرے کو لے کر آیا اور کہا کہ اس نے میرے بھائی کو قتل کیا ہے۔ قاتل نے اقرار کیا اور وجہ بتائی کہ گالی کی وجہ سے غصہ آیا اور کلہاڑی سے مارا، جس سے وہ مر گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ کیا اس کے پاس اپنی جان کے بدلے دینے کو کچھ مال ہے؟ اس نے کہا کہ اس کے پاس صرف کملی اور کلہاڑی ہے۔ پھر معاملہ وارث کے حوالے ہوا، مگر جب اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات معلوم ہوئی تو اس نے قاتل کو چھوڑ دیا۔ اس حدیث میں قتل، غصہ، قصاص اور معافی سب ایک ہی واقعے میں سامنے آتے ہیں، اس لیے آدمی کو غصے میں قدم اٹھانے سے بہت بچنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- غصے میں کیا گیا عمل بہت بڑے نقصان تک پہنچ سکتا ہے۔
- قتل کے معاملے میں اقرار اور حقیقت پوچھنے کا ذکر آیا ہے۔
- وارث کے لیے معاف کرنے کا پہلو بھی اس واقعے میں موجود ہے۔
