صحیح مسلم حدیث ۴۳۸۶ - یوم النحر کا پیغام

یوم النحر کا خطبہ: جان اور مال کی حرمت

صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۳۸۶

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، وَعَنْ رَجُلٍ آخَرَ هُوَ فِي نَفْسِي أَفْضَلُ مِنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَبَلَةَ ، وَأَحْمَدُ بْنُ خِرَاشٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ بِإِسْنَادِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، وَسَمَّى الرَّجُلَ حُمَيْدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، قَالَ : خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ ، فَقَالَ : " أَيُّ يَوْمٍ هَذَا ؟ " ، وَسَاقُوا الْحَدِيثَ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ عَوْنٍ ، غَيْرَ أَنَّهُ لَا يَذْكُرُ وَأَعْرَاضَكُمْ ، وَلَا يَذْكُرُ ثُمَّ انْكَفَأَ إِلَى كَبْشَيْنِ وَمَا بَعْدَهُ ، وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ " كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا ، فِي شَهْرِكُمْ هَذَا ، فِي بَلَدِكُمْ هَذَا ، إِلَى يَوْمِ تَلْقَوْنَ رَبَّكُمْ أَلَا هَلْ بَلَّغْتُ ؟ " قَالُوا : نَعَمْ ، قَالَ : " اللَّهُمَّ اشْهَدْ " .

ابوبکرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ پڑھا یوم النحر کو تو فرمایا:”یہ کون سا دن ہے؟“ اور بیان کیا اسی حدیث کو جیسا اوپر گزرا مگر اس میں عزتوں کا ذکر نہیں ہے، نہ دو مینڈھوں کے کاٹنے کا اور اس کے بعد کا مضمون اس روایت میں یہ ہے کہ ”جیسے تمہارے اس دن کی حرمت اس مہینے اس شہر میں اس دن تک جب ملو گے اپنے پروردگار سے آگاہ رہو میں نے پہنچا دیا۔“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا: ہاں پہنچا دیا (اللہ تعالیٰ کے حکم کو) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ تو گواہ رہ۔“

صحیح مسلم حدیث ۴۳۸۶ کا خلاصہ

اس روایت میں سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے یوم النحر کے خطبے کا ذکر ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دن، مہینے اور شہر کے بارے میں سوال کیا، پھر اسی نسبت سے جان اور مال کی حرمت بیان فرمائی۔ اس روایت میں خاص طور پر یہ الفاظ آئے کہ یہ حرمت اس دن تک ہے جب تم اپنے رب سے ملو گے۔ آخر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ کیا میں نے بات پہنچا دی؟ صحابہ نے عرض کیا کہ ہاں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! تو گواہ رہ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جان و مال کی حرمت صرف سماجی بات نہیں بلکہ اللہ کے سامنے جواب دہی کا معاملہ ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • جان اور مال کی حرمت کو رب سے ملاقات تک جوڑا گیا ہے۔
  • رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیغام پہنچانے پر اللہ کو گواہ بنایا۔
  • اہم نصیحت سن کر اسے سنجیدگی سے لینا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں