صحیح مسلم حدیث ۴۳۸۸ - قصاص میں معافی کی ترغیب

قصاص میں معافی: قاتل اور مقتول والی حدیث کا مفہوم

صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۳۸۸

وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ سَالِمٍ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : " أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ قَتَلَ رَجُلًا ، فَأَقَادَ وَلِيَّ الْمَقْتُولِ مِنْهُ ، فَانْطَلَقَ بِهِ ، وَفِي عُنُقِهِ نِسْعَةٌ يَجُرُّهَا ، فَلَمَّا أَدْبَرَ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الْقَاتِلُ وَالْمَقْتُولُ فِي النَّارِ " ، فَأَتَى رَجُلٌ الرَّجُلَ ، فَقَالَ لَهُ : مَقَالَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَخَلَّى عَنْهُ ، قَالَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ سَالِمٍ : فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِحَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، فَقَالَ : حَدَّثَنِي ابْنُ أَشْوَعَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا سَأَلَهُ أَنْ يَعْفُوَ عَنْهُ فَأَبَى .

علقمہ بن وائل روایت:

علقمہ بن وائل سے روایت ہے، اس نے سنا اپنے باپ سے، کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص لایا گیا جس نے مار ڈالا تھا ایک شخص کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دی مقتول کے وارث کو اس سے قصاص لینے کی اور اس کے گلے میں ایک تسمہ تھا جس کو وہ کھینچ رہا تھا جب وہ پیٹھ موڑ کر چلا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قاتل اور مقتول دونوں دوزخ میں جائیں گے۔“ ایک شخص اس سے جا کر ملا اور جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا وہ بیان کیا اس نے قاتل کو چھوڑ دیا۔اسماعیل بن سالم نے کہا: میں نے یہ حبیب بن ابی ثابت سے بیان کیا انہوں نے کہا: مجھ سے ابن اشوع رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا تھا معاف کرنے کو لیکن اس نے انکار کیا۔

صحیح مسلم حدیث ۴۳۸۸ کا خلاصہ

اس روایت میں ایک قاتل کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا۔ مقتول کے وارث کو قصاص لینے کی اجازت دی گئی، اور قاتل کے گلے میں تسمہ تھا جس سے وہ اسے لے جا رہا تھا۔ جب وہ چلا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قاتل اور مقتول دونوں آگ میں ہوں گے۔ ایک شخص نے یہ بات وارث تک پہنچائی، تو اس نے قاتل کو چھوڑ دیا۔ روایت کے آخر میں یہ بھی نقل ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے معاف کرنے کو کہا تھا مگر اس نے پہلے انکار کیا تھا۔ اس حدیث میں قصاص کا حق بھی نظر آتا ہے اور معافی کی ترغیب بھی۔ اس لیے خون کے معاملات میں جلد بازی، ضد اور غصے سے بچنا چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • قصاص کا معاملہ بہت سنجیدگی سے لیا گیا ہے۔
  • معافی کی ترغیب اس روایت میں صاف طور پر موجود ہے۔
  • خون کے معاملے میں بات سن کر فیصلہ بدلنے کا ذکر آیا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں