صحیح بخاری حدیث ۶۹۳۶ - قرآن سات حروف میں نازل ہوا
قرآن سات حروف میں نازل ہوا: قرأت کی حدیث
صحیح بخاری : ۶۹۳۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۹۳۶
قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ ، وَقَالَ اللَّيْثُ ، حَدَّثَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ ، وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَبْدٍ الْقَارِيَّ ، أَخْبَرَاهُ أَنَّهُمَا سَمِعَا عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ هِشَامَ بْنَ حَكِيمٍ يَقْرَأُ سُورَةَ الْفُرْقَانِ فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَاسْتَمَعْتُ لِقِرَاءَتِهِ ، فَإِذَا هُوَ يَقْرَؤُهَا عَلَى حُرُوفٍ كَثِيرَةٍ لَمْ يُقْرِئْنِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَذَلِكَ ، فَكِدْتُ أُسَاوِرُهُ فِي الصَّلَاةِ ، فَانْتَظَرْتُهُ حَتَّى سَلَّمَ ، ثُمَّ لَبَّبْتُهُ بِرِدَائِهِ أَوْ بِرِدَائِي ، فَقُلْتُ : مَنْ أَقْرَأَكَ هَذِهِ السُّورَةَ ، قَالَ : أَقْرَأَنِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قُلْتُ لَهُ : كَذَبْتَ فَوَاللَّهِ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْرَأَنِي هَذِهِ السُّورَةَ الَّتِي سَمِعْتُكَ تَقْرَؤُهَا ، فَانْطَلَقْتُ أَقُودُهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ : إِنِّي سَمِعْتُ هَذَا يَقْرَأُ بِسُورَةِ الْفُرْقَانِ عَلَى حُرُوفٍ لَمْ تُقْرِئْنِيهَا وَأَنْتَ أَقْرَأْتَنِي سُورَةَ الْفُرْقَانِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَرْسِلْهُ يَا عُمَرُ ، اقْرَأْ يَا هِشَامُ ، فَقَرَأَ عَلَيْهِ الْقِرَاءَةَ الَّتِي سَمِعْتُهُ يَقْرَؤُهَا ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هَكَذَا أُنْزِلَتْ ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اقْرَأْ يَا عُمَرُ ، فَقَرَأْتُ ، فَقَالَ : هَكَذَا أُنْزِلَتْ ، ثُمَّ قَالَ : إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ أُنْزِلَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنْهُ .
عمر بن الخطاب روایت:
میں نے ہشام بن حکیم کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں سورۃ الفرقان پڑھتے سنا جب غور سے سنا تو وہ بہت سی ایسی قراتوں کے ساتھ پڑھ رہے تھے جن سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے نہیں پڑھایا تھا۔ قریب تھا کہ نماز ہی میں، میں ان پر حملہ کر دیتا لیکن میں نے انتظار کیا اور جب انہوں نے سلام پھیرا تو ان کی چادر سے یا (انہوں نے یہ کہا کہ) اپنی چادر سے میں نے ان کی گردن میں پھندا ڈال دیا اور ان سے پوچھا کہ اس طرح تمہیں کس نے پڑھایا ہے؟انہوں نے کہا کہ مجھے اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھایا ہے۔ میں نے ان سے کہا کہ جھوٹ بولتے ہو، واللہ یہ سورت مجھے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھائی ہے جو میں نے تمہیں ابھی پڑھتے سنا ہے۔ چنانچہ میں انہیں کھینچتا ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے اسے سورۃ الفرقان اور طرح پر پڑھتے سنا ہے جس طرح آپ نے مجھے نہیں پڑھائی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بھی سورۃ الفرقان پڑھائی ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عمر! انہیں چھوڑ دو۔ ہشام سورت پڑھو۔ انہوں نے اسی طرح پڑھ کر سنایا جس طرح میں نے انہیں پڑھتے سنا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ اسی طرح نازل ہوئی تھی پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عمر! اب تم پڑھو۔ میں نے پڑھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسی طرح نازل ہوئی تھی پھر فرمایا یہ قرآن سات قراتوں میں نازل ہوا ہے پس تمہیں جس طرح آسانی ہو پڑھو۔
صحیح بخاری حدیث ۶۹۳۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ہشام بن حکیم رضی اللہ عنہ کو سورۃ الفرقان ایک ایسے انداز میں پڑھتے سنا جو انہیں نبی کریم صلى الله عليه وسلم سے نہیں سکھایا گیا تھا۔ انہیں سخت تعجب ہوا، مگر انہوں نے نماز ختم ہونے تک انتظار کیا۔ پھر دونوں نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے پاس آئے۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے پہلے ہشام رضی اللہ عنہ سے پڑھوایا اور فرمایا کہ اسی طرح نازل ہوئی۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے پڑھوایا اور فرمایا کہ اسی طرح نازل ہوئی۔ آخر میں آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ یہ قرآن سات حروف میں نازل ہوا ہے، پس جو آسان ہو پڑھو۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اختلاف کو نبی صلى الله عليه وسلم کی طرف لوٹا کر درست فیصلہ لیا جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دینی اختلاف میں فیصلہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم کی ہدایت سے لیا جائے۔
- قرآن کی قرأت کے معاملے میں وہی معتبر ہے جو نبی صلى الله عليه وسلم سے ثابت ہو۔
- حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے نماز کے اندر مداخلت نہ کر کے صبر کیا۔
