صحیح بخاری حدیث ۶۹۴۸ - بیوہ عورت پر زبردستی نہیں

بیوہ عورت کا اختیار: زبردستی نکاح کی ممانعت

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۹۴۸

حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا الشَّيْبَانِيُّ سُلَيْمَانُ بْنُ فَيْرُوزٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ الشَّيْبَانِيُّ ،وَحَدَّثَنِي عَطَاءٌ أَبُو الحَسَنِ السُّوَائِيُّ ، وَلَا أَظُنُّهُ إِلَّا ذَكَرَهُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا : يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَرِثُوا النِّسَاءَ كَرْهًا سورة النساء آية 19 الْآيَةَ ، قَالَ : " كَانُوا إِذَا مَاتَ الرَّجُلُ كَانَ أَوْلِيَاؤُهُ أَحَقَّ بِامْرَأَتِهِ ، إِنْ شَاءَ بَعْضُهُمْ تَزَوَّجَهَا ، وَإِنْ شَاءُوا زَوَّجَهَا ، وَإِنْ شَاءُوا لَمْ يُزَوِّجْهَا ، فَهُمْ أَحَقُّ بِهَا مِنْ أَهْلِهَا ، فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فِي ذَلِكَ " .

ابن عباس روایت:

´ہم سے حسین بن منصور نے بیان کیا، کہا ہم سے اسباط بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے شیبانی سلیمان بن فیروز نے بیان کیا، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے، شیبانی نے کہا کہ` مجھ سے عطاء ابوالحسن السوائی نے بیان کیا اور میرا یہی خیال ہے کہ انہوں نے یہ حدیث ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بیان کی۔ سورۃ المائدہ کی آیت «يا أيها الذين آمنوا لا يحل لكم أن ترثوا النساء كرها‏» بیان کیا کہ جب کوئی شخص (زمانہ جاہلیت میں) مر جاتا تو اس کے وارث اس کی عورت کے حقدار بنتے اگر ان میں سے کوئی چاہتا تو اس سے شادی کر لیتا اور چاہتا تو شادی نہ کرتا اس طرح مرنے والے کے وارث اس عورت پر عورت کے وارثوں سے زیادہ حق رکھتے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی (بیوہ عورت عدت گزارنے کے بعد مختار ہے وہ جس سے چاہے شادی کرے اس پر زبردستی کرنا ہرگز جائز نہیں ہے)۔

صحیح بخاری حدیث ۶۹۴۸ کا خلاصہ

اس حدیث میں سورۃ النساء کی آیت کے پس منظر کا ذکر ہے کہ اہل ایمان کے لیے عورتوں کو زبردستی وراثت میں لینا حلال نہیں۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے بیان کے مطابق زمانہ جاہلیت میں جب کوئی شخص فوت ہو جاتا تو اس کے وارث اس کی بیوی پر زیادہ حق جتاتے تھے۔ ان میں سے کوئی چاہتا تو اس سے نکاح کر لیتا، چاہتا تو نکاح نہ کرتا، یا اسے دوسروں سے نکاح کرنے سے روک لیتا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ متن کا اصل پیغام بیوہ عورت کا حق، نکاح میں اختیار، زبردستی نکاح کی ممانعت اور عورت پر جبر کے خلاف ہے۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ عورت کو کسی کی ملکیت یا وراثتی چیز سمجھنا غلط ہے۔ عدت کے بعد بیوہ عورت کے نکاح کے معاملے میں اس کے اختیار کو تسلیم کیا گیا۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • بیوہ عورت کو زبردستی اپنے اختیار میں رکھنا درست نہیں۔
  • نکاح کے معاملے میں عورت کا اپنا حق اور اختیار ہے۔
  • زمانہ جاہلیت کے ایسے طریقے کو آیت کے ذریعے روکا گیا۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں