صحیح بخاری حدیث ۶۹۵۰ - دعا اور اللہ پر بھروسہ
دعا اور نماز: سارہ علیہا السلام کا اللہ پر بھروسہ
صحیح بخاری : ۶۹۵۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۹۵۰
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "هَاجَرَ إِبْرَاهِيمُ بِسَارَةَ ، دَخَلَ بِهَا قَرْيَةً فِيهَا مَلِكٌ مِنَ الْمُلُوكِ ، أَوْ جَبَّارٌ مِنَ الْجَبَابِرَةِ ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ أَنْ أَرْسِلْ إِلَيَّ بِهَا ، فَأَرْسَلَ بِهَا ، فَقَامَ إِلَيْهَا ، فَقَامَتْ تَوَضَّأُ وَتُصَلِّي ، فَقَالَتْ : اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتُ آمَنْتُ بِكَ وَبِرَسُولِكَ ، فَلَا تُسَلِّطْ عَلَيَّ الْكَافِرَ ، فَغُطَّ حَتَّى رَكَضَ بِرِجْلِهِ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ابراہیم علیہ السلام نے سارہ علیہا السلام کو ساتھ لے کر ہجرت کی تو ایک ایسی بستی میں پہنچے جس میں بادشاہوں میں سے ایک بادشاہ یا ظالموں میں سے ایک ظالم رہتا تھا اس ظالم نے ابراہیم علیہ السلام کے پاس یہ حکم بھیجا کہ سارہ علیہا السلام کو اس کے پاس بھیجیں آپ نے سارہ کو بھیج دیا وہ ظالم ان کے پاس آیا تو وہ (سارہ علیہا السلام) وضو کر کے نماز پڑھ رہی تھیں انہوں نے دعا کی کہ اے اللہ! اگر میں تجھ پر اور تیرے رسول پر ایمان رکھتی ہوں تو تو مجھ پر کافر کو نہ مسلط کر پھر ایسا ہوا کہ وہ کم بخت بادشاہ اچانک خراٹے لینے اور گر کر پاؤں ہلانے لگا۔
صحیح بخاری حدیث ۶۹۵۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں حضرت ابراہیم علیہ السلام اور سارہ علیہا السلام کا واقعہ بیان ہوا ہے۔ جب وہ ایک بستی میں پہنچے جہاں ایک بادشاہ یا ظالم موجود تھا، تو اس نے سارہ علیہا السلام کو بلانے کا حکم بھیجا۔ روایت میں ہے کہ جب وہ ظالم ان کے پاس آیا تو سارہ علیہا السلام وضو کر کے نماز پڑھ رہی تھیں۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ اگر میں تجھ پر اور تیرے رسول پر ایمان رکھتی ہوں تو کافر کو مجھ پر مسلط نہ کر۔ پھر وہ شخص اچانک گرنے اور پاؤں ہلانے لگا۔ اس حدیث کا مرکزی موضوع دعا، نماز، وضو، ایمان اور اللہ سے حفاظت مانگنا ہے۔ متن میں سارہ علیہا السلام کا عمل بہت واضح ہے: خطرے کے وقت انہوں نے اللہ کی طرف رجوع کیا، وضو کیا، نماز پڑھی اور دعا کی۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مشکل وقت میں اللہ سے دعا کرنا مؤمن کا سہارا ہے۔
- سارہ علیہا السلام نے وضو اور نماز کے ساتھ اللہ سے حفاظت مانگی۔
- متن میں ایمان اور اللہ پر بھروسے کا مضبوط پہلو سامنے آتا ہے۔
