صحیح بخاری حدیث ۶۹۵۱ - مسلمان مسلمان کا بھائی
مسلمان مسلمان کا بھائی: ظلم نہ کرو، ساتھ نہ چھوڑو
صحیح بخاری : ۶۹۵۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۹۵۱
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرِ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ عُقَيْلٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ سَالِمًا أَخْبَرَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ، لاَ يَظْلِمُهُ، وَلاَ يُسْلِمُهُ، وَمَنْ كَانَ فِي حَاجَةِ أَخِيهِ، كَانَ اللَّهُ فِي حَاجَتِهِ».
عبداللہ بن عمر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مسلمان مسلمان کا بھائی ہے نہ اس پر ظلم کرے اور نہ اسے (کسی ظالم کے) سپرد کرے اور جو شخص اپنے کسی بھائی کی ضرورت پوری کرنے میں لگا ہو گا اللہ تعالیٰ اس کی ضرورت اور حاجت پوری کرے گا۔“
صحیح بخاری حدیث ۶۹۵۱ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع اخوت اور ظلم سے بچنا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسلمان مسلمان کا بھائی ہے۔ وہ نہ اس پر ظلم کرے اور نہ اسے کسی ظالم کے سپرد کرے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص اپنے بھائی کی ضرورت پوری کرنے میں لگا ہو، اللہ تعالیٰ اس کی ضرورت پوری کرے گا۔ اس حدیث میں مسلمان بھائی چارہ، ظلم سے بچنا، حاجت پوری کرنا اور دوسروں کو بے سہارا نہ چھوڑنا واضح الفاظ میں آیا ہے۔ یہاں بھائی چارہ صرف جذباتی بات نہیں، بلکہ عمل کا مطالبہ ہے۔ اگر کوئی مسلمان مشکل میں ہے تو اسے ظالم کے حوالے نہیں کرنا، اس کی ضرورت میں مدد کرنی ہے، اور اس کے ساتھ خیر خواہی کا معاملہ کرنا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مسلمان کو دوسرے مسلمان پر ظلم نہیں کرنا چاہیے۔
- کسی مسلمان کو ظالم کے حوالے کر دینا درست نہیں۔
- بھائی کی حاجت پوری کرنے میں لگنا نیکی کا کام ہے۔
