صحیح بخاری حدیث ۶۹۹۰ - مبشرات یعنی اچھے خواب
مبشرات کیا ہیں؟ اچھے خواب کی حدیث
صحیح بخاری : ۶۹۹۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۹۹۰
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لَمْ يَبْقَ مِنَ النُّبُوَّةِ إِلَّا الْمُبَشِّرَاتُ ، قَالُوا : وَمَا الْمُبَشِّرَاتُ ؟ ، قَالَ : الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ " .
ابوہریرہ روایت:
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نبوت میں سے صرف اب مبشرات باقی رہ گئی ہیں۔ صحابہ نے پوچھا کہ مبشرات کیا ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اچھے خواب۔
صحیح بخاری حدیث ۶۹۹۰ کا خلاصہ
مرکزی موضوع: مبشرات۔ اس حدیث میں نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ نبوت میں سے اب صرف مبشرات باقی رہ گئی ہیں۔ صحابہ کرام نے پوچھا کہ مبشرات کیا ہیں؟ آپ صلى الله عليه وسلم نے جواب دیا کہ اچھے خواب۔ اس روایت کا اصل پیغام یہ ہے کہ اچھا خواب ایک خوش خبری کی صورت ہو سکتا ہے۔ حدیث میں لفظ مبشرات کو خود نبی صلى الله عليه وسلم نے اچھے خواب سے واضح فرمایا، اس لیے اس کی تشریح میں حد سے بڑھنے کی ضرورت نہیں۔ یہاں یہ نہیں کہا گیا کہ ہر خواب لازمی طور پر خوش خبری ہے، بلکہ خاص طور پر اچھے خواب کا ذکر ہے۔ جو لوگ مبشرات حدیث، اچھے خواب کی حدیث، یا خواب کی خوش خبری تلاش کرتے ہیں، ان کے لیے یہ روایت بہت صاف جواب دیتی ہے۔ مسلمان کو اچھے خواب پر اللہ کا شکر کرنا چاہیے اور اسے دین کی حدود کے اندر سمجھنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مبشرات سے مراد حدیث میں اچھے خواب بتائے گئے ہیں۔
- اچھا خواب خوش خبری کی صورت ہو سکتا ہے۔
- ہر خواب کو مبشرات کہنا اس حدیث کے الفاظ سے ثابت نہیں۔
- صحابہ نے سوال کیا تو نبی صلى الله عليه وسلم نے مختصر اور واضح جواب دیا۔
