صحیح بخاری حدیث ۷۰۱۷ - مومن کا خواب اور اس کی اقسام

مومن کا خواب: تین قسمیں اور برا خواب دیکھنے کا طریقہ

صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۰۱۷

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَبَّاحٍ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، سَمِعْتُ عَوْفًا ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا اقْتَرَبَ الزَّمَانُ لَمْ تَكَدْ تَكْذِبُ رُؤْيَا الْمُؤْمِنِ ، وَرُؤْيَا الْمُؤْمِنِ جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ ، وَمَا كَانَ مِنَ النُّبُوَّةِ فَإِنَّهُ لَا يَكْذِبُ " ، قَالَ مُحَمَّدٌ : وَأَنَا أَقُولُ هَذِهِ ، قَالَ : وَكَانَ يُقَالُ : الرُّؤْيَا ثَلَاثٌ : حَدِيثُ النَّفْسِ ، وَتَخْوِيفُ الشَّيْطَانِ ، وَبُشْرَى مِنَ اللَّهِ ، فَمَنْ رَأَى شَيْئًا يَكْرَهُهُ فَلَا يَقُصَّهُ عَلَى أَحَدٍ ، وَلْيَقُمْ فَلْيُصَلِّ ، قَالَ : وَكَانَ يُكْرَهُ الْغُلُّ فِي النَّوْمِ ، وَكَانَ يُعْجِبُهُمُ الْقَيْدُ ، وَيُقَالُ : الْقَيْدُ ثَبَاتٌ فِي الدِّينِ ، وَرَوَى قَتَادَةُ ، وَيُونُسُ ، وَهِشَامٌ ، وَأَبُو هِلَالٍ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَدْرَجَهُ بَعْضُهُمْ كُلَّهُ فِي الْحَدِيثِ ، وَحَدِيثُ عَوْفٍ أَبْيَنُ ، وَقَالَ يُونُسُ : لَا أَحْسِبُهُ إِلَّا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْقَيْدِ ، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ : لَا تَكُونُ الْأَغْلَالُ إِلَّا فِي الْأَعْنَاقِ .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب قیامت قریب ہو گی تو مومن کا خواب جھوٹا نہیں ہو گا اور مومن کا خواب نبوت کے چھیالیس حصوں میں سے ایک حصہ ہے۔“ محمد بن سیرین رحمہ اللہ (جو کہ علم تعبیر کے بہت بڑے عالم تھے) نے کہا کہ نبوت کا حصہ جھوٹ نہیں ہو سکتا۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے تھے کہ خواب تین طرح کے ہیں۔ دل کے خیالات، شیطان کا ڈرانا اور اللہ کی طرف سے خوشخبری۔ پس اگر کوئی شخص خواب میں بری چیز دیکھتا ہے تو اسے چاہئیے کہ اس کا ذکر کسی سے نہ کرے اور کھڑا ہو کر نماز پڑھنے لگے۔محمد بن سیرین نے کہا کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ خواب میں طوق کو ناپسند کرتے تھے اور قید دیکھنے کو اچھا سمجھتے تھے اور کہا گیا ہے کہ قید سے مراد دین میں ثابت قدمی ہے۔ اور قتادہ، یونس، ہشام اور ابوہلال نے ابن سیرین سے نقل کیا ہے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے۔ اور بعض نے یہ ساری روایت حدیث میں شمار کی ہے لیکن عوف کی روایت زیادہ واضح ہے اور یونس نے کہا کہ قید کے بارے میں روایت کو میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہی سمجھتا ہوں۔ ابوعبداللہ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ طوق ہمیشہ گردنوں ہی میں ہوتے ہیں۔

صحیح بخاری حدیث ۷۰۱۷ کا خلاصہ

یہ حدیث خواب کے بارے میں اہم ہدایات دیتی ہے۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ جب قیامت قریب ہو گی تو مومن کا خواب جھوٹا نہیں ہو گا، اور مومن کا خواب نبوت کے چھیالیس حصوں میں سے ایک حصہ ہے۔ روایت میں یہ بھی ذکر ہے کہ خواب تین طرح کے ہوتے ہیں: دل کے خیالات، شیطان کا ڈرانا، اور اللہ کی طرف سے خوشخبری۔ اگر کوئی شخص خواب میں ناپسند چیز دیکھے تو اسے کسی سے بیان نہ کرے اور کھڑا ہو کر نماز پڑھے۔ اس حدیث میں خواب کی اقسام، برا خواب دیکھنے کا طریقہ، اور مومن کے خواب کی حیثیت بیان ہوئی ہے۔ اسی روایت میں قید کو دین میں ثابت قدمی کے معنی سے بھی ذکر کیا گیا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • خواب تین طرح کے ہو سکتے ہیں: دل کے خیالات، شیطانی ڈرانا، اور اللہ کی طرف سے خوشخبری۔
  • برا خواب دیکھنے پر اسے لوگوں سے بیان نہ کیا جائے۔
  • ناپسند خواب کے بعد نماز پڑھنے کی ہدایت اس روایت میں آئی ہے۔
  • مومن کا خواب نبوت کے چھیالیس حصوں میں سے ایک حصہ بتایا گیا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں