صحیح بخاری حدیث ۷۰۰۸ - قمیص کا خواب اور دین
خواب میں قمیص کی تعبیر: دین کی مضبوطی
صحیح بخاری : ۷۰۰۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۰۰۸
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو أُمَامَةَ بْنُ سَهْلٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بَيْنَمَا أَنَا نَائِمٌ رَأَيْتُ النَّاسَ يُعْرَضُونَ عَلَيَّ وَعَلَيْهِمْ قُمُصٌ مِنْهَا مَا يَبْلُغُ الثَّدْيَ وَمِنْهَا مَا يَبْلُغُ دُونَ ذَلِكَ ، وَمَرَّ عَلَيَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَعَلَيْهِ قَمِيصٌ يَجُرُّهُ ، قَالُوا : مَا أَوَّلْتَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ ، قَالَ : الدِّينَ " .
ابو سعید خدری روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میں سویا ہوا تھا کہ میں نے دیکھا کہ لوگ میرے سامنے پیش کئے جا رہے ہیں وہ قمیص پہنے ہوئے ہیں۔ ان میں بعض کی قمیص تو صرف سینے تک کی ہے اور بعض کی اس سے بڑی ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے تو ان کی قمیص زمین سے گھسٹ رہی تھی۔ صحابہ نے پوچھا: یا رسول اللہ! آپ نے اس کی کیا تعبیر کی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دین۔
صحیح بخاری حدیث ۷۰۰۸ کا خلاصہ
یہ حدیث خواب میں قمیص کی تعبیر کے بارے میں ہے۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ آپ سو رہے تھے، آپ نے دیکھا کہ لوگ آپ کے سامنے پیش کیے جا رہے ہیں اور سب قمیص پہنے ہوئے ہیں۔ کسی کی قمیص سینے تک تھی اور کسی کی اس سے بڑی تھی۔ پھر عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ گزرے تو ان کی قمیص زمین سے گھسٹ رہی تھی۔ صحابہ نے پوچھا کہ یا رسول اللہ، آپ نے اس خواب کی کیا تعبیر کی؟ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: دین۔ اس روایت میں قمیص کو دین کی علامت بتایا گیا ہے۔ قمیص جتنی زیادہ تھی، تعبیر میں دین کا معنی اتنا نمایاں ہوا۔ حدیث کا اصل پیغام یہی ہے کہ اس خاص خواب میں عمر رضی اللہ عنہ کی قمیص ان کے دین سے متعلق تھی۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اس حدیث میں خواب کی قمیص کو دین کی تعبیر دی گئی ہے۔
- عمر رضی اللہ عنہ کی قمیص کا لمبا ہونا ان کے دین کی نسبت سے بیان ہوا۔
- خواب کی تعبیر میں اپنی رائے کے بجائے نبی صلى الله عليه وسلم کی بتائی ہوئی تعبیر اصل ہے۔
