صحیح بخاری حدیث ۷۰۲۴ - سونے کا محل اور عمر رضی اللہ عنہ
جنت کا سونے کا محل: عمر رضی اللہ عنہ کی غیرت
صحیح بخاری : ۷۰۲۴
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۰۲۴
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " دَخَلْتُ الْجَنَّةَ فَإِذَا أَنَا بِقَصْرٍ مِنْ ذَهَبٍ ، فَقُلْتُ : لِمَنْ هَذَا ؟ ، فَقَالُوا : لِرَجُلٍ مِنْ قُرَيْشٍ ، فَمَا مَنَعَنِي أَنْ أَدْخُلَهُ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ إِلَّا مَا أَعْلَمُ مِنْ غَيْرَتِكَ " ، قَالَ : وَعَلَيْكَ أَغَارُ يَا رَسُولَ اللَّهِ .
جابر بن عبداللہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میں جنت میں داخل ہوا تو وہاں ایک سونے کا محل مجھے نظر آیا۔ میں نے پوچھا یہ کس کا ہے؟ کہا کہ قریش کے ایک شخص کا۔ اے ابن الخطاب! مجھے اس کے اندر جانے سے تمہاری غیرت نے روک دیا ہے جسے میں خوب جانتا ہوں۔“ عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا میں آپ پر غیرت کروں گا۔
صحیح بخاری حدیث ۷۰۲۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ میں جنت میں داخل ہوا تو وہاں ایک سونے کا محل دیکھا۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے پوچھا کہ یہ کس کا ہے؟ کہا گیا کہ قریش کے ایک شخص کا ہے۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ اے ابن الخطاب، مجھے اس محل میں داخل ہونے سے تمہاری غیرت نے روک دیا، جسے میں خوب جانتا ہوں۔ عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ، کیا میں آپ پر غیرت کروں گا؟ اس حدیث کا اصل موضوع جنت کا محل، عمر رضی اللہ عنہ کی فضیلت، اور ان کی غیرت کا ذکر ہے۔ روایت میں جو بات آئی ہے، اسی کو سادہ الفاظ میں سمجھنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے جنت میں سونے کا محل دیکھنے کا ذکر فرمایا۔
- محل کے بارے میں بتایا گیا کہ وہ قریش کے ایک شخص کا ہے، پھر عمر رضی اللہ عنہ سے خطاب ہوا۔
- عمر رضی اللہ عنہ کی غیرت کا ذکر اس روایت میں صاف آیا ہے۔
