صحیح بخاری حدیث ۷۰۲۶ - دجال کی پہچان اور عیسیٰ علیہ السلام کا خواب
دجال کی نشانیاں: خواب کی تعبیر میں عیسیٰ علیہ السلام کا ذکر
صحیح بخاری : ۷۰۲۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۰۲۶
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ رَأَيْتُنِي أَطُوفُ بِالْكَعْبَةِ ، فَإِذَا رَجُلٌ آدَمُ سَبْطُ الشَّعَرِ بَيْنَ رَجُلَيْنِ يَنْطُفُ رَأْسُهُ مَاءً ، فَقُلْتُ : مَنْ هَذَا ؟ ، قَالُوا : ابْنُ مَرْيَمَ ، فَذَهَبْتُ أَلْتَفِتُ فَإِذَا رَجُلٌ أَحْمَرُ جَسِيمٌ جَعْدُ الرَّأْسِ أَعْوَرُ الْعَيْنِ الْيُمْنَى كَأَنَّ عَيْنَهُ عِنَبَةٌ طَافِيَةٌ ، قُلْتُ : مَنْ هَذَا ؟ ، قَالُوا : هَذَا الدَّجَّالُ أَقْرَبُ النَّاسِ بِهِ شَبَهًا ابْنُ قَطَنٍ ، وَابْنُ قَطَنٍ رَجُلٌ مِنْ بَنِي الْمُصْطَلِقِ مِنْ خُزَاعَةَ " .
عبداللہ بن عمر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میں سویا ہوا تھا کہ میں نے اپنے آپ کو کعبہ کا طواف کرتے دیکھا۔ اچانک ایک صاحب نظر آئے، گندم گوں بال لٹکے ہوئے تھے اور دو آدمیوں کے درمیان (سہارا لیے ہوئے تھے) ان کے سر سے پانی ٹپک رہا تھا۔میں نے پوچھا یہ کون ہیں؟ کہا کہ عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام، پھر میں مڑا تو ایک دوسرا شخص سرخ، بھاری جسم والا، گھنگریالے بال والا اور ایک آنکھ سے کانا جیسے اس کی آنکھ پر خشک انگور ہو نظر آیا۔ میں نے پوچھا یہ کون ہیں؟ کہا کہ یہ دجال ہے۔ اس کی صورت عبدالعزیٰ بن قطن سے بہت ملتی تھی۔“ یہ عبدالعزیٰ بن قطن مطلق میں تھا جو قبیلہ خزاعہ کی ایک شاخ ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۷۰۲۶ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی مضمون خواب کی تعبیر اور دجال کی پہچان ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خواب میں خود کو کعبہ کا طواف کرتے دیکھا۔ وہاں عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام بھی دکھائے گئے، جن کے بال لٹکے ہوئے تھے اور سر سے پانی ٹپک رہا تھا۔ پھر دجال دکھایا گیا: سرخ رنگ، بھاری جسم، گھنگریالے بال اور ایک آنکھ سے کانا، گویا اس کی آنکھ خشک انگور جیسی تھی۔ اس روایت میں دجال کی نشانیاں صاف الفاظ میں آئی ہیں، اس لیے دجال کی حدیث، عیسیٰ علیہ السلام کا خواب، اور خواب کی تعبیر جیسے موضوعات کے لیے یہ متن بہت اہم ہے۔ حدیث میں صرف وہی بات بیان ہوئی ہے جو خواب میں دکھائی گئی: عیسیٰ علیہ السلام کی پہچان، دجال کی ظاہری علامتیں، اور ابن قطن سے مشابہت۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- خواب میں آنے والی بات کو اسی حد تک سمجھنا چاہیے جس حد تک حدیث میں بیان ہوئی ہو۔
- دجال کی ظاہری پہچان حدیث کے الفاظ میں ایک آنکھ، سرخ رنگ اور گھنگریالے بال کے ساتھ آئی ہے۔
- رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے خواب میں عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کو کعبہ کے طواف میں دیکھا۔
