صحیح بخاری حدیث ۷۰۳۳ - خواب کی روایت کا سوال
نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے خواب کے بارے میں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال
صحیح بخاری : ۷۰۳۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۰۳۳
حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْجَرْمِيُّ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ عُبَيْدَةَ بْنِ نَشِيطٍ ، قَالَ : قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْ رُؤْيَا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّتِي ذَكَرَ .
عبیداللہ بن عبداللہ روایت:
میں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس خواب کے متعلق پوچھا جو انہوں نے بیان کیا تھا۔
صحیح بخاری حدیث ۷۰۳۳ کا خلاصہ
یہ حدیث بہت مختصر ہے، مگر اس کا انداز علمی ہے۔ عبیداللہ بن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس خواب کے بارے میں پوچھا جو آپ نے بیان کیا تھا۔ اس متن میں ابھی خواب کی پوری تفصیل نہیں آئی، بلکہ سوال کا ذکر ہے۔ اسی لیے اس کا موضوع خواب کی روایت، اہل علم سے پوچھنا، اور حدیث معلوم کرنے کا طریقہ ہے۔ اس سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ صحابہ اور تابعین کسی بات کو سمجھنے کے لیے اس شخص سے سوال کرتے تھے جس کے پاس روایت کا علم ہو۔ خواب کی تعبیر حدیث، نبی کے خواب، اور ابن عباس روایت جیسے سرچ الفاظ اسی متن سے جڑتے ہیں۔ یہاں کوئی اضافی واقعہ شامل نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ حدیث میں صرف سوال کا مرحلہ بیان ہوا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دینی بات سمجھنے کے لیے روایت جاننے والے سے سوال کیا گیا۔
- یہ متن خواب کی تفصیل سے پہلے سوال کے مرحلے کو بیان کرتا ہے۔
- حدیث کو اسی حد تک بیان کرنا چاہیے جتنا متن میں آیا ہو۔
