صحیح بخاری حدیث ۷۰۳۸ - مدینہ کی وبا کا منتقل ہونا

مدینہ کی وبا کا خواب: مہیعہ یعنی الجحفہ کی تعبیر

صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۰۳۸

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنِي أَخِي عَبْدُ الْحَمِيدِ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " رَأَيْتُ كَأَنَّ امْرَأَةً سَوْدَاءَ ثَائِرَةَ الرَّأْسِ خَرَجَتْ مِنَ الْمَدِينَةِ حَتَّى قَامَتْ بِمَهْيَعَةَ وَهِيَ الْجُحْفَةُ ، فَأَوَّلْتُ أَنَّ وَبَاءَ الْمَدِينَةِ نُقِلَ إِلَيْهَا " .

عبداللہ بن عمر روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے دیکھا جیسے ایک سیاہ عورت پراگندہ بال، مدینہ سے نکلی اور مہیعہ میں جا کر کھڑی ہو گئی۔ مہیعہ حجفہ کو کہتے ہیں۔ میں نے اس کی یہ تعبیر لی کہ مدینہ کی وبا حجفہ نامی بستی میں چلی گئی۔

صحیح بخاری حدیث ۷۰۳۸ کا خلاصہ

اس حدیث کا موضوع مدینہ کی وبا کے منتقل ہونے کا خواب ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ ایک سیاہ عورت، جس کے بال بکھرے ہوئے تھے، مدینہ سے نکلی اور مہیعہ میں جا کر کھڑی ہو گئی۔ روایت میں بتایا گیا کہ مہیعہ کو حجفہ کہتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تعبیر یہ لی کہ مدینہ کی وبا وہاں منتقل کر دی گئی۔ اس حدیث میں خواب کی علامت، مدینہ کی وبا، مہیعہ، اور الجحفہ کے الفاظ اصل بنیاد ہیں۔ وضاحت میں کوئی الگ طبی یا تاریخی دعویٰ شامل نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ متن صرف خواب اور اس کی تعبیر بیان کرتا ہے۔ جو شخص مدینہ کی وبا کی حدیث یا الجحفہ والی تعبیر تلاش کرے، اس روایت کا مرکزی پیغام یہی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے خواب کی تعبیر مدینہ کی وبا کے منتقل ہونے سے فرمائی۔
  • حدیث میں مہیعہ کی وضاحت الجحفہ کے نام سے آئی ہے۔
  • خواب کی علامت کو اسی طرح سمجھنا چاہیے جیسے روایت میں تعبیر دی گئی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں