صحیح بخاری حدیث ۷۰۳۷ - دو جھوٹے اور سونے کے کنگن
سونے کے کنگن اور دو جھوٹے: صنعاء اور یمامہ کا ذکر
صحیح بخاری : ۷۰۳۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۰۳۷
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ إِذْ أُوتِيتُ خَزَائِنَ الْأَرْضِ فَوُضِعَ فِي يَدَيَّ سِوَارَانِ مِنْ ذَهَبٍ ، فَكَبُرَا عَلَيَّ وَأَهَمَّانِي ، فَأُوحِيَ إِلَيَّ أَنِ انْفُخْهُمَا ، فَنَفَخْتُهُمَا فَطَارَا ، فَأَوَّلْتُهُمَا الْكَذَّابَيْنِ اللَّذَيْنِ أَنَا بَيْنَهُمَا ، صَاحِبَ صَنْعَاءَ ، وَصَاحِبَ الْيَمَامَةِ " .
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میں سویا ہوا تھا کہ زمین کے خزانے میرے پاس لائے گئے اور میرے ہاتھ میں دو سونے کے کنگن رکھ دئیے گئے جو مجھے بہت شاق گزرے۔ پھر مجھے وحی کی گئی کہ میں ان پر پھونک ماروں میں نے پھونکا تو وہ اڑ گئے۔ میں نے ان کی تعبیر دو جھوٹوں سے لی جن کے درمیان میں میں ہوں ایک صنعاء کا اور دوسرا یمامہ کا۔“
صحیح بخاری حدیث ۷۰۳۷ کا خلاصہ
اس روایت میں دو باتیں ساتھ آتی ہیں: زمین کے خزانے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے گئے، اور آپ کے ہاتھ میں دو سونے کے کنگن رکھے گئے۔ وہ آپ کو بہت بھاری اور ناگوار لگے۔ پھر وحی کی گئی کہ آپ ان پر پھونک ماریں۔ آپ نے پھونکا تو وہ اڑ گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تعبیر دو جھوٹوں سے لی، جن کے درمیان آپ تھے: ایک صنعاء کا اور دوسرا یمامہ کا۔ اس حدیث کا اصل موضوع جھوٹے مدعیوں کی خبر، خواب کی تعبیر، اور سونے کے کنگن کا اشارہ ہے۔ اس میں جو نام آئے ہیں وہ جگہوں کے ساتھ آئے ہیں، اس لیے وضاحت میں بھی بات اسی حد تک رکھی گئی ہے۔ سرچ کے لحاظ سے یہ مسیلمہ کذاب، عنسی، اور دو جھوٹوں والی حدیث سے جڑتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے دو کنگنوں کی تعبیر دو جھوٹوں سے لی۔
- خواب میں کنگنوں کا بھاری لگنا اور پھر اڑ جانا صاف بیان ہوا ہے۔
- حدیث میں دو نسبتیں آئی ہیں: صاحب صنعاء اور صاحب یمامہ۔
