صحیح بخاری حدیث ۷۰۴۰ - وبا کی خواب میں تعبیر

خواب میں مدینہ کی وبا: مہیعہ یعنی الجحفہ

صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۰۴۰

حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " رَأَيْتُ امْرَأَةً سَوْدَاءَ ثَائِرَةَ الرَّأْسِ خَرَجَتْ مِنَ الْمَدِينَةِ حَتَّى قَامَتْ بِمَهْيَعَةَ ، فَأَوَّلْتُ أَنَّ وَبَاءَ الْمَدِينَةِ نُقِلَ إِلَى مَهْيَعَةَ وَهِيَ الْجُحْفَةُ " .

عبداللہ بن عمر روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میں نے ایک پراگندہ بال، کالی عورت دیکھی جو مدینہ سے نکلی اور مہیعہ میں جا کر ٹھہر گئی۔ میں نے اس کی تعبیر یہ لی کہ مدینہ کی وبا مہیعہ یعنی منتقل ہو گئی۔“

صحیح بخاری حدیث ۷۰۴۰ کا خلاصہ

یہ حدیث اسی خواب کی ایک اور روایت ہے جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک پراگندہ بال، کالی عورت کو دیکھا۔ وہ مدینہ سے نکلی اور مہیعہ میں جا کر ٹھہر گئی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تعبیر یہ لی کہ مدینہ کی وبا مہیعہ منتقل ہو گئی۔ متن میں مہیعہ کی وضاحت الجحفہ کے طور پر موجود ہے۔ اس روایت کا اصل موضوع مدینہ کی وبا، خواب کی تعبیر، اور مہیعہ ہے۔ عام فہم انداز میں بات یوں ہے کہ خواب میں ایک چیز کو ایک جگہ سے دوسری جگہ جاتے دیکھا گیا، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے مدینہ کی وبا کے منتقل ہونے کی تعبیر دی۔ اس سے آگے طبی، جغرافیائی یا تاریخی تفصیل حدیث کے موجودہ متن میں نہیں ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • خواب کی تعبیر نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے خود بیان فرمائی۔
  • مدینہ کی وبا کے منتقل ہونے کا ذکر اس روایت کا مرکزی مضمون ہے۔
  • مَہیعہ کا نام حدیث میں الجحفہ کے ساتھ واضح کیا گیا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں