صحیح بخاری حدیث ۷۰۴۱ - تلوار کا خواب اور احد
تلوار کا خواب: احد، فتح اور مسلمانوں کا اجتماع
صحیح بخاری : ۷۰۴۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۰۴۱
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ جَدِّهِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، أُرَاهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " رَأَيْتُ فِي رُؤْيَايَ أَنِّي هَزَزْتُ سَيْفًا فَانْقَطَعَ صَدْرُهُ ، فَإِذَا هُوَ مَا أُصِيبَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ أُحُدٍ ، ثُمَّ هَزَزْتُهُ أُخْرَى فَعَادَ أَحْسَنَ مَا كَانَ ، فَإِذَا هُوَ مَا جَاءَ اللَّهُ بِهِ مِنَ الْفَتْحِ وَاجْتِمَاعِ الْمُؤْمِنِينَ " .
ابوموسیٰ روایت:
´ہم سے محمد بن علاء نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے برید بن عبداللہ ابن ابی بردہ نے بیان کیا، ان سے ان کے دادا ابوبردہ نے اور ان سے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے مجھ کو یقین ہے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں فرمایا کہ میں نے ایک تلوار ہلائی تو وہ بیچ سے ٹوٹ گئی۔ اس کی تعبیر احد کی جنگ میں مسلمانوں کے شہید ہونے کی صورت میں سامنے آئی پھر دوبارہ میں نے اسے ہلایا تو وہ پہلے سے بھی اچھی شکل میں ہو گئی۔ اس کی تعبیر فتح اور مسلمانوں کے اتفاق و اجتماع کی صورت میں سامنے آئی۔
صحیح بخاری حدیث ۷۰۴۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خواب میں تلوار کی تعبیر بیان ہوئی ہے۔ آپ نے فرمایا کہ میں نے خواب میں ایک تلوار ہلائی تو وہ بیچ سے ٹوٹ گئی۔ اس کی تعبیر احد کی جنگ میں مسلمانوں کے شہید ہونے کی صورت میں سامنے آئی۔ پھر آپ نے دوبارہ تلوار ہلائی تو وہ پہلے سے بہتر حالت میں واپس آ گئی۔ اس کی تعبیر فتح اور مسلمانوں کے اتفاق و اجتماع سے ہوئی۔ اس روایت میں تلوار کا خواب، جنگ احد، شہداء، فتح، اور مسلمانوں کا جمع ہونا اصل الفاظ ہیں۔ اس کا پیغام غم اور نقصان کے بعد آنے والی فتح اور اجتماع کے بیان تک محدود ہے، جیسا کہ حدیث میں خود تعبیر دی گئی ہے۔ سرچ کے لحاظ سے یہ احد کی حدیث اور تلوار کے خواب کی تعبیر سے متعلق ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ٹوٹتی ہوئی تلوار کی تعبیر احد میں مسلمانوں کے نقصان سے بیان ہوئی۔
- تلوار کا بہتر ہو جانا فتح اور مسلمانوں کے اجتماع کی علامت بتایا گیا۔
- حدیث میں خواب کی تعبیر نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے الفاظ سے معلوم ہوتی ہے۔
