صحیح بخاری حدیث ۷۰۴۲ - جھوٹا خواب اور پرائیویسی
جھوٹا خواب بیان کرنا: حدیث کی سخت تنبیہ
صحیح بخاری : ۷۰۴۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۰۴۲
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ تَحَلَّمَ بِحُلْمٍ لَمْ يَرَهُ كُلِّفَ أَنْ يَعْقِدَ بَيْنَ شَعِيرَتَيْنِ وَلَنْ يَفْعَلَ ، وَمَنِ اسْتَمَعَ إِلَى حَدِيثِ قَوْمٍ وَهُمْ لَهُ كَارِهُونَ أَوْ يَفِرُّونَ مِنْهُ صُبَّ فِي أُذُنِهِ الْآنُكُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَمَنْ صَوَّرَ صُورَةً عُذِّبَ وَكُلِّفَ أَنْ يَنْفُخَ فِيهَا وَلَيْسَ بِنَافِخٍ " ، قَالَ سُفْيَانُ : وَصَلَهُ لَنا أَيُّوبُ ، وَقَالَ قُتَيْبَةُ : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَوْلَهُ مَنْ كَذَبَ فِي رُؤْيَاهُ ، وَقَالَ شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي هَاشِمٍ الرُّمَّانِيِّ ، سَمِعْتُ عِكْرِمَةَ ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : قَوْلَهُ مَنْ صَوَّرَ صُورَةً ، وَمَنْ تَحَلَّمَ ، وَمَنِ اسْتَمَعَ . حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : مَنِ اسْتَمَعَ ، وَمَنْ تَحَلَّمَ ، وَمَنْ صَوَّرَ نَحْوَهُ ، تَابَعَهُ هِشَامٌ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَوْلَهُ .
ابن عباس روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس نے ایسا خواب بیان کیا جو اس نے دیکھا نہ ہو تو اسے دو جَو کے دو دانوں کو قیامت کے دن جوڑنے کے لیے کہا جائے گا اور وہ اسے ہرگز نہیں کر سکے گا (اس لیے مار کھاتا رہے گا) اور جو شخص دوسرے لوگوں کی بات سننے کے لیے کان لگائے جو اسے پسند نہیں کرتے یا اس سے بھاگتے ہیں تو قیامت کے دن اس کے کانوں میں سیسہ پگھلا کر ڈالا جائے گا اور جو کوئی تصویر بنائے گا اسے عذاب دیا جائے گا اور اس پر زور دیا جائے گا کہ اس میں روح بھی ڈالے جو وہ نہیں کر سکے گا۔اور سفیان نے کہا کہ ہم سے ایوب نے یہ حدیث موصولاً بیان کی اور قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، ہم سے ابوعوانہ نے، ان سے قتادہ نے، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ جو اپنے خواب کے سلسلے میں جھوٹ بولے۔ اور شعبہ نے کہا، ان سے ابوہاشم الرمانی نے، انہوں نے عکرمہ سے سنا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے (کا قول موقوفاً) جو شخص مورت بنائے، جو شخص جھوٹا خواب بیان کرے، جو شخص کان لگا کر دوسروں کی باتیں سنے۔ہم سے اسحاق واسطی نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد طحان نے بیان کیا، ان سے خالد حذاء نے، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جو کسی کی بات کان لگا کر سننے کے پیچھے لگا اور جس نے غلط خواب بیان کیا اور جس نے تصویر بنائی (ایسی ہی حدیث نقل کی موقوفاً ابن عباس سے) خالد حذاء کے ساتھ اس حدیث کو ہشام بن حسان فردوسی نے بھی عکرمہ سے، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے موقوفاً روایت کیا۔
صحیح بخاری حدیث ۷۰۴۲ کا خلاصہ
یہ حدیث تین بڑے اخلاقی معاملات پر سخت تنبیہ کرتی ہے: جھوٹا خواب بیان کرنا، لوگوں کی ناپسندیدہ باتیں چھپ کر سننا، اور تصویر بنانا۔ پہلے حصے میں فرمایا گیا کہ جو شخص ایسا خواب بیان کرے جو اس نے دیکھا ہی نہ ہو، اسے قیامت کے دن دو جَو کے دانوں کو جوڑنے کا کہا جائے گا، اور وہ نہیں کر سکے گا۔ دوسرے حصے میں اس شخص کا ذکر ہے جو لوگوں کی بات سننے کے لیے کان لگائے جبکہ وہ اسے پسند نہ کرتے ہوں یا اس سے بچتے ہوں۔ تیسرے حصے میں تصویر بنانے والے کے بارے میں بتایا گیا کہ اسے روح ڈالنے کا کہا جائے گا، جو وہ نہیں کر سکے گا۔ اس حدیث کا اصل موضوع جھوٹا خواب، پرائیویسی، اور تصویر سازی سے متعلق تنبیہ ہے۔ وضاحت اسی متن تک محدود ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ایسا خواب بیان کرنا منع کیا گیا ہے جو آدمی نے دیکھا ہی نہ ہو۔
- لوگوں کی ایسی باتیں سننا جنہیں وہ سنانا پسند نہ کریں، سخت تنبیہ کا سبب ہے۔
- تصویر بنانے والے کے بارے میں روح ڈالنے کا ذکر حدیث کے اندر آیا ہے۔
