صحیح بخاری حدیث ۷۰۹۰ - فتنہ سے پناہ

فتنہ سے پناہ کی حدیث: آزمائش کے وقت اللہ کی طرف رجوع

صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۰۹۰

وَقَالَ عَبَّاسٌ النَّرْسِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، أَنَّ أَنَسًا حَدَّثَهُمْ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا ، وَقَالَ : كُلُّ رَجُلٍ لَافًّا رَأْسَهُ فِي ثَوْبِهِ يَبْكِي ، وَقَالَ : عَائِذًا بِاللَّهِ مِنْ سُوءِ الْفِتَنِ ، أَوْ قَالَ : أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ سَوْءَى الْفِتَنِ .

انس روایت:

انس رضی اللہ عنہ نے کہا ہر شخص کپڑے میں اپنا سر لپیٹے ہوئے رو رہا تھا اور فتنے سے اللہ کی پناہ مانگ رہا تھا یا یوں کہہ رہا تھا کہ میں اللہ سے فتنہ کی برائی سے پناہ مانگتا ہوں۔

صحیح بخاری حدیث ۷۰۹۰ کا خلاصہ

یہ روایت پچھلی حدیث کے ایک حصے کو مزید واضح کرتی ہے۔ انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہر شخص اپنا سر کپڑے میں لپیٹے ہوئے رو رہا تھا اور فتنہ سے اللہ کی پناہ مانگ رہا تھا، یا یہ کہہ رہا تھا کہ میں فتنہ کی برائی سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں۔ اس حدیث کا اصل موضوع فتنہ سے پناہ ہے۔ یہاں لمبی بحث نہیں، بلکہ صحابہ کے دل کی حالت سامنے آتی ہے۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں سخت بات کا موقع آیا تو صحابہ نے بحث بڑھانے کے بجائے اللہ سے پناہ مانگی۔ فتنہ سے پناہ کی حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ آزمائش کے وقت دل نرم ہونا، اپنی کمزوری ماننا اور اللہ کی طرف پلٹنا اہم ہے۔ ہر مشکل سوال کا جواب جذبات سے نہیں، عاجزی اور دعا سے بھی دیا جاتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • فتنہ کے وقت اللہ سے پناہ مانگنا درست اور اہم عمل ہے۔
  • صحابہ کی کیفیت میں خوف، ادب اور عاجزی نظر آتی ہے۔
  • مشکل موقع پر بحث بڑھانے کے بجائے اللہ کی طرف رجوع کیا گیا۔
  • آدمی کو آزمائش کے خطرے کو معمولی نہیں سمجھنا چاہیے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں