صحیح بخاری حدیث ۷۰۹۱ - شر فتنہ سے پناہ

شر فتنہ سے پناہ: آزمائش کے وقت دل کی حفاظت

صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۰۹۱

وقَالَ لِي خَلِيفَةُ ،حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، وَمُعْتَمِرٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ قَتَادَةَ ، أَنَّ أَنَسًا حَدَّثَهُمْ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا ، وَقَالَ : عَائِذًا بِاللَّهِ مِنْ شَرِّ الْفِتَنِ .

انس روایت:

´اور مجھ سے خلیفہ بن خیاط نے بیان کیا، ان سے یزید بن زریع نے بیان کیا، ان سے سعید و معتمر کے والد نے قتادہ سے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا` پھر یہی حدیث نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کی، اس میں بجائے «سوء» کے «شر» کا لفظ ہے۔

صحیح بخاری حدیث ۷۰۹۱ کا خلاصہ

اس روایت میں اسی واقعے کا بیان ہے، مگر الفاظ میں “سوء” کے بجائے “شر” کا لفظ آیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم فتنوں کی برائی سے اللہ کی پناہ مانگ رہے تھے۔ اس حدیث میں بڑی تفصیل نہیں، مگر ایک صاف پیغام ہے: فتنہ ایسی چیز ہے جس کے سامنے انسان اپنے اعتماد پر اکیلا بھروسہ نہ کرے۔ جب ماحول سخت ہو، سوالات بھاری ہوں، یا دل پر خوف آئے تو اللہ سے پناہ مانگنا مومن کا راستہ ہے۔ شر فتنہ سے پناہ کی حدیث عام آدمی کو بھی سمجھ آتی ہے، کیونکہ ہر زمانے میں آدمی اپنے گھر، معاشرے اور دین کے معاملے میں آزمائش دیکھتا ہے۔ یہاں تعلیم یہی ہے کہ فتنہ کو کھیل نہ سمجھا جائے اور اللہ کی حفاظت طلب کی جائے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • فتنہ کے شر سے اللہ کی پناہ مانگنا حدیث میں آیا ہے۔
  • الفاظ بدل سکتے ہیں، مگر اصل معنی آزمائش کی برائی سے بچنا ہے۔
  • ایمان والا انسان اپنی کمزوری پہچان کر دعا کرتا ہے۔
  • فتنہ کو معمولی سمجھنا درست نہیں۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں