صحیح بخاری حدیث ۷۰۹۲ - مشرق کا فتنہ

مشرق سے فتنہ کی حدیث: خبردار رہنے کی نبوی تعلیم

صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۰۹۲

حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ " قَامَ إِلَى جَنْبِ الْمِنْبَرِ ، فَقَالَ : الْفِتْنَةُ هَا هُنَا الْفِتْنَةُ هَا هُنَا مِنْ حَيْثُ يَطْلُعُ قَرْنُ الشَّيْطَانِ ، أَوْ قَالَ قَرْنُ الشَّمْسِ " .

´ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ہشام بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا ان سے معمر نے بیان کیا، ان سے زہری نے بیان کیا، ان سے سالم نے، ان سے ان کے والد نے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم منبر کے ایک طرف کھڑے ہوئے اور فرمایا ”فتنہ ادھر ہے، فتنہ ادھر ہے جدھر سے شیطان کا سینگ طلوع ہوتا ہے یا سورج کا سینگ فرمایا۔“

صحیح بخاری حدیث ۷۰۹۲ کا خلاصہ

اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم منبر کے ایک طرف کھڑے ہوئے اور فرمایا: فتنہ ادھر ہے، فتنہ ادھر ہے، جدھر سے شیطان کا سینگ طلوع ہوتا ہے، یا روایت کے لفظ کے مطابق سورج کا سینگ۔ اس حدیث کا اصل موضوع مشرق کا فتنہ ہے۔ یہاں تفصیل نہیں دی گئی کہ ہر شخص یا ہر جگہ کے بارے میں کیا حکم ہے، اس لیے اس حدیث سے اپنی طرف سے نام، قوم یا زمانہ طے کرنا درست نہیں۔ متن میں جو بات آئی ہے وہ اتنی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتنہ کی سمت کی طرف اشارہ فرمایا۔ مشرق سے فتنہ کی حدیث ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ فتنوں کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تنبیہ کو سنجیدگی سے لیا جائے، مگر الفاظ سے آگے بڑھ کر غیر ضروری الزام تراشی نہ کی جائے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • حدیث میں فتنہ کی سمت کے بارے میں تنبیہ آئی ہے۔
  • متن سے آگے بڑھ کر لوگوں پر الزام لگانا درست نہیں۔
  • فتنہ کے معاملے میں احتیاط اور سنجیدگی چاہیے۔
  • نبی کریم صلى الله عليه وسلم کی خبردار کرنے والی باتوں کو معمولی نہیں سمجھنا چاہیے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں