صحیح بخاری حدیث ۷۰۹۳ - فتنہ کی سمت
فتنہ کی سمت کی حدیث: مشرق کے بارے میں نبوی تنبیہ
صحیح بخاری : ۷۰۹۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۰۹۳
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَر رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " وَهُوَ مُسْتَقْبِلٌ الْمَشْرِقَ ، يَقُولُ : أَلَا إِنَّ الْفِتْنَةَ هَا هُنَا مِنْ حَيْثُ يَطْلُعُ قَرْنُ الشَّيْطَانِ " .
ابن عمر روایت:
´ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے نافع نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ` انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مشرق کی طرف رخ کئے ہوئے تھے اور فرما رہے تھے ”آگاہ ہو جاؤ، فتنہ اس طرف ہے جدھر سے شیطان کا سینگ طلوع ہوتا ہے۔“
صحیح بخاری حدیث ۷۰۹۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا، آپ مشرق کی طرف رخ کیے ہوئے تھے اور فرما رہے تھے کہ آگاہ رہو، فتنہ اس طرف ہے جہاں سے شیطان کا سینگ طلوع ہوتا ہے۔ اس روایت میں الفاظ مختصر ہیں مگر تنبیہ بہت صاف ہے۔ فتنہ کی سمت کی حدیث کا مطلب یہ نہیں کہ آدمی اپنی طرف سے ہر دور کے لوگوں پر حکم لگا دے۔ حدیث میں بس وہی بات ماننی چاہیے جو متن میں ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرق کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فتنہ کے بارے میں خبردار کیا۔ اس سے مسلمان کو یہ سبق ملتا ہے کہ فتنہ کے بارے میں لاپرواہی نہ کرے، اور دینی بات کو اپنی رائے، غصے یا سیاسی بحث کا ذریعہ نہ بنائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حدیث میں مشرق کی طرف فتنہ کی خبر دی گئی ہے۔
- نبی کریم صلى الله عليه وسلم کی تنبیہ کو سنجیدگی سے سننا چاہیے۔
- حدیث کے الفاظ سے آگے ذاتی فیصلے نہیں بنانے چاہئیں۔
- فتنہ کے ذکر میں احتیاط اور ادب ضروری ہے۔
