صحیح بخاری حدیث ۷۰۹۸ - عمل کے بغیر نصیحت
عمل کے بغیر نصیحت کی حدیث: کہنا کافی نہیں، خود کرنا بھی لازم
صحیح بخاری : ۷۰۹۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۰۹۸
حَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ ، قَالَ : قِيلَ لِأُسَامَةَ : أَلَا تُكَلِّمُ هَذَا ؟ ، قَالَ : قَدْ كَلَّمْتُهُ مَا دُونَ أَنْ أَفْتَحَ بَابًا أَكُونُ أَوَّلَ مَنْ يَفْتَحُهُ ، وَمَا أَنَا بِالَّذِي أَقُولُ لِرَجُلٍ بَعْدَ أَنْ يَكُونَ أَمِيرًا عَلَى رَجُلَيْنِ أَنْتَ خَيْرٌ بَعْدَ مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " يُجَاءُ بِرَجُلٍ فَيُطْرَحُ فِي النَّارِ فَيَطْحَنُ فِيهَا كَطَحْنِ الْحِمَارِ بِرَحَاهُ ، فَيُطِيفُ بِهِ أَهْلُ النَّارِ ، فَيَقُولُونَ : أَيْ فُلَانُ ، أَلَسْتَ كُنْتَ تَأْمُرُ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَى عَنِ الْمُنْكَرِ ؟ ، فَيَقُولُ : إِنِّي كُنْتُ آمُرُ بِالْمَعْرُوفِ وَلَا أَفْعَلُهُ ، وَأَنْهَى عَنِ الْمُنْكَرِ وَأَفْعَلُهُ " .
ابووائل روایت:
اسامہ رضی اللہ عنہ سے کہا گیا کہ آپ (عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ) سے گفتگو کیوں نہیں کرتے (کہ عام مسلمانوں کی شکایات کا خیال رکھیں) انہوں نے کہا کہ میں نے (خلوت میں) ان سے گفتگو کی ہے لیکن (فتنہ کے) دروازہ کو کھولے بغیر کہ اس طرح میں سب سے پہلے اس دروازہ کو کھولنے والا ہوں گا میں ایسا آدمی نہیں ہوں کہ کسی شخص سے جب وہ دو آدمیوں پر امیر بنا دیا جائے یہ کہوں کہ تو سب سے بہتر ہے۔ جبکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سن چکا ہوں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک شخص کو (قیامت کے دن) لایا جائے گا اور اسے آگ میں ڈال دیا جائے گا۔ پھر وہ اس میں اس طرح چکی پیسے گا جیسے گدھا پیستا ہے۔ پھر دوزخ کے لوگ اس کے چاروں طرف جمع ہو جائیں گے اور کہیں گے، اے فلاں! کیا تم نیکیوں کا حکم کرتے اور برائیوں سے روکا نہیں کرتے تھے؟ وہ شخص کہے گا کہ میں اچھی بات کے لیے کہتا تو ضرور تھا لیکن خود نہیں کرتا تھا اور بری بات سے روکتا بھی تھا لیکن خود کرتا تھا۔
صحیح بخاری حدیث ۷۰۹۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں اسامہ رضی اللہ عنہ سے کہا گیا کہ آپ امیر سے بات کیوں نہیں کرتے؟ انہوں نے بتایا کہ وہ خلوت میں بات کر چکے ہیں، مگر ایسا دروازہ نہیں کھولنا چاہتے جس سے فتنہ شروع ہو۔ پھر انہوں نے ایک حدیث سنائی کہ ایک شخص کو قیامت کے دن آگ میں ڈالا جائے گا، وہ اس میں چکی کی طرح گھومے گا۔ دوزخ والے پوچھیں گے کہ کیا تم نیکی کا حکم نہیں دیتے تھے اور برائی سے نہیں روکتے تھے؟ وہ کہے گا کہ میں نیکی کا حکم دیتا تھا مگر خود نہیں کرتا تھا، اور برائی سے روکتا تھا مگر خود کرتا تھا۔ عمل کے بغیر نصیحت کی حدیث بہت صاف ہے: دینی بات کہنا بڑی ذمہ داری ہے۔ آدمی کو دوسروں کو نصیحت کرنے کے ساتھ اپنے عمل کا بھی جائزہ لینا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نیکی کا حکم دینے والے کو اپنے عمل کا بھی خیال رکھنا چاہیے۔
- برائی سے روک کر خود وہی کام کرنا سخت خطرے کی بات ہے۔
- امیر کو نصیحت میں حکمت اور فتنے سے بچاؤ کا خیال رکھا گیا۔
- دینی نصیحت صرف زبان کا کام نہیں، عمل کی ذمہ داری بھی ہے۔
