صحیح بخاری حدیث ۷۰۹۹ - حکومت اور فتنہ
حکومت عورت کے ہاتھ میں ہونے کی حدیث: فارس کے واقعے کا بیان
صحیح بخاری : ۷۰۹۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۰۹۹
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ الْهَيْثَمِ ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، قَالَ : " لَقَدْ نَفَعَنِي اللَّهُ بِكَلِمَةٍ أَيَّامَ الْجَمَلِ ، لَمَّا بَلَغَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ فَارِسًا مَلَّكُوا ابْنَةَ كِسْرَى ، قَالَ : لَنْ يُفْلِحَ قَوْمٌ وَلَّوْا أَمْرَهُمُ امْرَأَةً " .
ابوبکرہ روایت:
جنگ جمل کے زمانہ میں مجھے ایک کلمہ نے فائدہ پہنچایا جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا کہ فارس کی سلطنت والوں نے بوران نامی کسریٰ کی بیٹی کو بادشاہ بنا لیا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ قوم کبھی فلاح نہیں پائے گی جس کی حکومت ایک عورت کے ہاتھ میں ہو۔
صحیح بخاری حدیث ۷۰۹۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں ابوبکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جنگ جمل کے دنوں میں ایک بات نے انہیں فائدہ دیا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا کہ فارس والوں نے کسریٰ کی بیٹی کو بادشاہ بنا لیا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ قوم کبھی فلاح نہیں پائے گی جس نے اپنا معاملہ عورت کے سپرد کر دیا۔ اس حدیث کا متن ایک خاص واقعے سے شروع ہوتا ہے: فارس کی سلطنت اور کسریٰ کی بیٹی کی حکومت۔ اس لیے وضاحت میں اسی حد تک بات رکھی جانی چاہیے۔ حکومت عورت کے ہاتھ میں ہونے کی حدیث کے بارے میں گفتگو کرتے وقت جذباتی جملوں یا عام لوگوں پر طعن سے بچنا چاہیے۔ روایت کا اصل پیغام سیاسی قیادت کے ایک معاملے پر نبوی خبر ہے، جسے ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے فتنہ کے زمانے میں یاد رکھا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حدیث میں فارس کے حکومتی واقعے کا ذکر آیا ہے۔
- ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے اس کلمے کو جنگ جمل کے زمانے میں مفید پایا۔
- دینی نص کو جذباتی طعن یا ذاتی حملے کے لیے استعمال نہیں کرنا چاہیے۔
- متن میں قیادت کے ایک خاص معاملے پر نبوی بات بیان ہوئی ہے۔
