صحیح بخاری حدیث ۷۱۰۱ - آزمائش اور ادب
آزمائش اور ادب کی حدیث: ام المؤمنین کا احترام اور فتنہ کی پہچان
صحیح بخاری : ۷۱۰۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۱۰۱
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي غَنِيَّةَ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، قَامَ عَمَّارٌ عَلَى مِنْبَرِ الْكُوفَةِ ، فَذَكَرَ عَائِشَةَ وَذَكَرَ مَسِيرَهَا ، وَقَالَ : "إِنَّهَا زَوْجَةُ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَلَكِنَّهَا مِمَّا ابْتُلِيتُمْ " .
ابووائل روایت:
کوفہ میں عمار رضی اللہ عنہ منبر پر کھڑے ہوئے اور عائشہ رضی اللہ عنہا اور ان کی روانگی کا ذکر کیا اور کہا کہ بلاشبہ وہ دنیا و آخرت میں تمہارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ ہیں لیکن تم ان کے بارے میں آزمائے گئے ہو۔
صحیح بخاری حدیث ۷۱۰۱ کا خلاصہ
اس روایت میں ابووائل بیان کرتے ہیں کہ عمار رضی اللہ عنہ کوفہ کے منبر پر کھڑے ہوئے۔ انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا اور ان کی روانگی کا ذکر کیا، پھر صاف کہا کہ وہ دنیا اور آخرت میں تمہارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ ہیں، لیکن تم ان کے بارے میں آزمائے گئے ہو۔ اس حدیث کا پیغام مختصر مگر بہت اہم ہے۔ فتنہ کے وقت لوگ زبان سے حدیں پار کر جاتے ہیں، مگر عمار رضی اللہ عنہ نے پہلے ام المؤمنین رضی اللہ عنہا کا مقام بیان کیا، پھر آزمائش کا ذکر کیا۔ آزمائش اور ادب کی حدیث ہمیں سمجھاتی ہے کہ اختلاف یا مشکل سیاسی حالت میں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھرانے کا احترام قائم رہتا ہے۔ بات واضح ہو سکتی ہے، مگر بے ادبی کے بغیر۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کا احترام صاف بیان ہوا۔
- فتنہ کے وقت ادب اور حق دونوں کا خیال رکھنا چاہیے۔
- عمار رضی اللہ عنہ نے پہلے فضیلت بیان کی، پھر آزمائش کا ذکر کیا۔
- اختلاف میں زبان کی حفاظت ضروری ہے۔
