صحیح بخاری حدیث ۷۱۰۲ - فتنہ میں اختلاف

فتنہ میں اختلاف کی حدیث: صحابہ کی گفتگو اور ضبط

صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۱۰۲

حَدَّثَنَا بَدَلُ بْنُ الْمُحَبَّرِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو ، سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ ، يَقُولُ : دَخَلَ أَبُو مُوسَى ، وَأَبُو مَسْعُودٍ ، عَلَى عَمَّارٍ حَيْثُ بَعَثَهُ عَلِيٌّ إِلَى أَهْلِ الْكُوفَةِ يَسْتَنْفِرُهُمْ ، فَقَالَا : مَا رَأَيْنَاكَ أَتَيْتَ أَمْرًا أَكْرَهَ عِنْدَنَا مِنْ إِسْرَاعِكَ فِي هَذَا الْأَمْرِ مُنْذُ أَسْلَمْتَ ، فَقَالَ عَمَّارٌ : " مَا رَأَيْتُ مِنْكُمَا مُنْذُ أَسْلَمْتُمَا أَمْرًا أَكْرَهَ عِنْدِي مِنْ إِبْطَائِكُمَا عَنْ هَذَا الْأَمْرِ ، وَكَسَاهُمَا حُلَّةً حُلَّةً ثُمَّ رَاحُوا إِلَى الْمَسْجِدِ " .

ابووائل روایت:

ابوموسیٰ اور ابومسعود رضی اللہ عنہما دونوں عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کے پاس گئے جب انہیں علی رضی اللہ عنہ نے اہل کوفہ کے پاس اس لیے بھیجا تھا کہ لوگوں کو لڑنے کے لیے تیار کریں۔ ابوموسیٰ اور ابومسعود رضی اللہ عنہما دونوں عمار رضی اللہ عنہ سے کہنے لگے جب سے تم مسلمانوں ہوئے ہو ہم نے کوئی بات اس سے زیادہ بری نہیں دیکھی جو تم اس کام میں جلدی کر رہے ہو۔عمار رضی اللہ عنہ نے جواب دیا میں نے بھی جب سے تم دونوں مسلمان ہوئے ہو تمہاری کوئی بات اس سے بری نہیں دیکھی جو تم اس کام میں دیر کر رہے ہو۔ ابومسعود رضی اللہ عنہ نے عمار رضی اللہ عنہ اور ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ دونوں کو ایک ایک کپڑے کا نیا جوڑا پہنایا پھر تینوں مل کر مسجد میں تشریف لے گئے۔

صحیح بخاری حدیث ۷۱۰۲ کا خلاصہ

اس حدیث میں ابوموسیٰ اور ابومسعود رضی اللہ عنہما عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، جب انہیں علی رضی اللہ عنہ نے اہل کوفہ کو لڑائی کے لیے تیار کرنے کے لیے بھیجا تھا۔ دونوں نے عمار رضی اللہ عنہ سے کہا کہ جب سے تم مسلمان ہوئے ہو، ہم نے تمہیں اس کام میں جلدی کرنے سے زیادہ ناپسند بات کرتے نہیں دیکھا۔ عمار رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ میں نے تم دونوں میں اس کام میں دیر کرنے سے زیادہ ناپسند بات نہیں دیکھی۔ پھر ابومسعود رضی اللہ عنہ نے عمار اور ابوموسیٰ رضی اللہ عنہما کو ایک ایک نیا جوڑا پہنایا، اور تینوں مسجد گئے۔ فتنہ میں اختلاف کی حدیث بتاتی ہے کہ صحابہ کے درمیان رائے کا فرق ہوا، مگر گفتگو کے بعد تعلق بالکل ٹوٹتا نظر نہیں آتا۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • فتنہ کے وقت نیک لوگوں میں بھی رائے کا اختلاف ہو سکتا ہے۔
  • اختلاف کے باوجود باہمی تعلق اور احترام باقی رکھا گیا۔
  • عمار رضی اللہ عنہ جلدی کو درست سمجھتے تھے، جبکہ دوسرے حضرات اسے ناپسند سمجھ رہے تھے۔
  • آخر میں کپڑے دیے گئے اور سب مسجد گئے، یعنی معاملہ بدزبانی تک نہیں گیا۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں