صحیح بخاری حدیث ۷۱۰۳ - صحابہ کا اختلاف

صحابہ کا اختلاف: فتنہ کے وقت بات چیت کا انداز

صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۱۰۳

حَدَّثَنَا بَدَلُ بْنُ الْمُحَبَّرِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو ، سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ ، يَقُولُ : دَخَلَ أَبُو مُوسَى ، وَأَبُو مَسْعُودٍ ، عَلَى عَمَّارٍ حَيْثُ بَعَثَهُ عَلِيٌّ إِلَى أَهْلِ الْكُوفَةِ يَسْتَنْفِرُهُمْ ، فَقَالَا : مَا رَأَيْنَاكَ أَتَيْتَ أَمْرًا أَكْرَهَ عِنْدَنَا مِنْ إِسْرَاعِكَ فِي هَذَا الْأَمْرِ مُنْذُ أَسْلَمْتَ ، فَقَالَ عَمَّارٌ : " مَا رَأَيْتُ مِنْكُمَا مُنْذُ أَسْلَمْتُمَا أَمْرًا أَكْرَهَ عِنْدِي مِنْ إِبْطَائِكُمَا عَنْ هَذَا الْأَمْرِ ، وَكَسَاهُمَا حُلَّةً حُلَّةً ثُمَّ رَاحُوا إِلَى الْمَسْجِدِ " .

ابووائل روایت:

ابوموسیٰ اور ابومسعود رضی اللہ عنہما دونوں عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کے پاس گئے جب انہیں علی رضی اللہ عنہ نے اہل کوفہ کے پاس اس لیے بھیجا تھا کہ لوگوں کو لڑنے کے لیے تیار کریں۔ ابوموسیٰ اور ابومسعود رضی اللہ عنہما دونوں عمار رضی اللہ عنہ سے کہنے لگے جب سے تم مسلمانوں ہوئے ہو ہم نے کوئی بات اس سے زیادہ بری نہیں دیکھی جو تم اس کام میں جلدی کر رہے ہو۔عمار رضی اللہ عنہ نے جواب دیا میں نے بھی جب سے تم دونوں مسلمان ہوئے ہو تمہاری کوئی بات اس سے بری نہیں دیکھی جو تم اس کام میں دیر کر رہے ہو۔ ابومسعود رضی اللہ عنہ نے عمار رضی اللہ عنہ اور ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ دونوں کو ایک ایک کپڑے کا نیا جوڑا پہنایا پھر تینوں مل کر مسجد میں تشریف لے گئے۔

صحیح بخاری حدیث ۷۱۰۳ کا خلاصہ

یہ روایت اسی واقعے کو بیان کرتی ہے کہ ابوموسیٰ اور ابومسعود رضی اللہ عنہما عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کے پاس گئے۔ عمار رضی اللہ عنہ کو علی رضی اللہ عنہ نے اہل کوفہ کو تیار کرنے کے لیے بھیجا تھا۔ دونوں صحابہ نے عمار رضی اللہ عنہ کے جلدی کرنے کو ناپسند سمجھا، اور عمار رضی اللہ عنہ نے ان کے دیر کرنے کو ناپسند کہا۔ اس کے بعد ابومسعود رضی اللہ عنہ نے عمار اور ابوموسیٰ رضی اللہ عنہما کو ایک ایک نیا جوڑا دیا، پھر سب مسجد کی طرف گئے۔ صحابہ کا اختلاف والی یہ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ فتنہ کے وقت فیصلہ آسان نہیں ہوتا۔ ایک طرف جلدی کو ضرورت سمجھا جا سکتا ہے، دوسری طرف دیر کو احتیاط۔ مگر اختلاف کے باوجود عملی برتاؤ میں نرمی اور تعلق باقی رہ سکتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • فتنہ کے حالات میں فیصلوں پر اختلاف ہو سکتا ہے۔
  • ایک فریق جلدی کو صحیح، دوسرا دیر کو بہتر سمجھ سکتا ہے۔
  • اختلاف کے بعد بھی اچھا سلوک ختم نہیں ہونا چاہیے۔
  • مسجد کی طرف جانا اجتماعی دینی تعلق کو ظاہر کرتا ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں