صحیح بخاری حدیث ۷۱۰۵ - اختلاف میں حسن سلوک

اختلاف میں حسن سلوک کی حدیث: تنقید کے بعد بھی ادب

صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۱۰۵

حَدَّثَنَا عَبْدَانُ ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ ، كُنْتُ جَالِسًا مَعَ أَبِي مَسْعُودٍ ، وَأَبِي مُوسَى ، وَعَمَّارٍ ، فَقَالَ أَبُو مَسْعُودٍ : " مَا مِنْ أَصْحَابِكَ أَحَدٌ إِلَّا لَوْ شِئْتُ لَقُلْتُ فِيهِ غَيْرَكَ ، وَمَا رَأَيْتُ مِنْكَ شَيْئًا مُنْذُ صَحِبْت النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْيَبَ عِنْدِي مِنَ اسْتِسْرَاعِكَ فِي هَذَا الْأَمْرِ ، قَالَ عَمَّارٌ : يَا أَبَا مَسْعُودٍ ، وَمَا رَأَيْتُ مِنْكَ وَلَا مِنْ صَاحِبِكَ هَذَا شَيْئًا مُنْذُ صَحِبْتُمَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْيَبَ عِنْدِي مِنْ إِبْطَائِكُمَا فِي هَذَا الْأَمْرِ ، فَقَالَ أَبُو مَسْعُودٍ وَكَانَ مُوسِرًا : يَا غُلَامُ ، هَاتِ حُلَّتَيْنِ ، فَأَعْطَى إِحْدَاهُمَا أَبَا مُوسَى وَالْأُخْرَى عَمَّارًا ، وَقَالَ : رُوحَا فِيهِ إِلَى الْجُمُعَةِ " .

شقیق بن سلمہ روایت:

میں ابومسعود، ابوموسیٰ اور عمار رضی اللہ عنہم کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا۔ ابومسعود رضی اللہ عنہ نے عمار رضی اللہ عنہ سے کہا ہمارے ساتھ والے جتنے لوگ ہیں میں اگر چاہوں تو تمہارے سوا ان میں سے ہر ایک کا کچھ نہ کچھ عیب بیان کر سکتا ہوں۔ (لیکن تم ایک بےعیب ہو) اور جب سے تم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت اختیار کی، میں نے کوئی عیب کا کام تمہارا نہیں دیکھا۔ ایک یہی عیب کا کام دیکھتا ہوں، تم اس دور میں یعنی لوگوں کو جنگ کے لیے اٹھانے میں جلدی کر رہے ہو۔عمار رضی اللہ عنہ نے کہا ابومسعود رضی اللہ عنہ تم سے اور تمہارے ساتھی ابوموسیٰ اشعری سے جب سے تم دونوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت اختیار کی ہے میں نے کوئی عیب کا کام اس سے زیادہ نہیں دیکھا جو تم دونوں اس کام میں دیر کر رہے ہو۔ اس پر ابومسعود رضی اللہ عنہ نے کہا اور وہ مالدار آدمی تھے کہ غلام! دو حلے لاؤ۔ چنانچہ انہوں نے ایک حلہ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کو دیا اور دوسرا عمار رضی اللہ عنہ کو اور کہا کہ آپ دونوں بھائی کپڑے پہن کر جمعہ پڑھنے چلیں۔

صحیح بخاری حدیث ۷۱۰۵ کا خلاصہ

اس حدیث میں شقیق بن سلمہ بیان کرتے ہیں کہ وہ ابومسعود، ابوموسیٰ اور عمار رضی اللہ عنہم کے ساتھ بیٹھے تھے۔ ابومسعود رضی اللہ عنہ نے عمار رضی اللہ عنہ سے کہا کہ جب سے تم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت اختیار کی، میں نے تم میں کوئی عیب کا کام نہیں دیکھا، سوائے اس کے کہ تم اس دور میں جلدی کر رہے ہو۔ عمار رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ میں نے تم دونوں میں اس کام میں دیر کرنے سے زیادہ ناپسند بات نہیں دیکھی۔ پھر ابومسعود رضی اللہ عنہ نے، جو مالدار تھے، غلام سے دو حلے منگوائے؛ ایک ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کو دیا اور ایک عمار رضی اللہ عنہ کو، اور کہا کہ دونوں بھائی یہ پہن کر جمعہ پڑھنے جائیں۔ اختلاف میں حسن سلوک کی حدیث آج بھی سادہ سبق دیتی ہے: رائے کا فرق عزت ختم کرنے کی وجہ نہیں بننا چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • تنقید کے ساتھ بھی پچھلی اچھائی کا اعتراف کیا گیا۔
  • اختلاف کے بعد تحفہ دینا حسن سلوک کو ظاہر کرتا ہے۔
  • جمعہ کے لیے اچھا لباس دینے کا ذکر روایت میں آیا ہے۔
  • دینی اختلاف میں زبان اور تعلق کی حفاظت اہم ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں