صحیح بخاری حدیث ۷۱۰۶ - فتنہ میں اختلاف اور جمعہ

فتنہ کے زمانے میں صحابہ کا اختلاف اور جمعہ کی تیاری

صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۱۰۶

حَدَّثَنَا عَبْدَانُ ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ ، كُنْتُ جَالِسًا مَعَ أَبِي مَسْعُودٍ ، وَأَبِي مُوسَى ، وَعَمَّارٍ ، فَقَالَ أَبُو مَسْعُودٍ : " مَا مِنْ أَصْحَابِكَ أَحَدٌ إِلَّا لَوْ شِئْتُ لَقُلْتُ فِيهِ غَيْرَكَ ، وَمَا رَأَيْتُ مِنْكَ شَيْئًا مُنْذُ صَحِبْت النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْيَبَ عِنْدِي مِنَ اسْتِسْرَاعِكَ فِي هَذَا الْأَمْرِ ، قَالَ عَمَّارٌ : يَا أَبَا مَسْعُودٍ ، وَمَا رَأَيْتُ مِنْكَ وَلَا مِنْ صَاحِبِكَ هَذَا شَيْئًا مُنْذُ صَحِبْتُمَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْيَبَ عِنْدِي مِنْ إِبْطَائِكُمَا فِي هَذَا الْأَمْرِ ، فَقَالَ أَبُو مَسْعُودٍ وَكَانَ مُوسِرًا : يَا غُلَامُ ، هَاتِ حُلَّتَيْنِ ، فَأَعْطَى إِحْدَاهُمَا أَبَا مُوسَى وَالْأُخْرَى عَمَّارًا ، وَقَالَ : رُوحَا فِيهِ إِلَى الْجُمُعَةِ " .

شقیق بن سلمہ روایت:

میں ابومسعود، ابوموسیٰ اور عمار رضی اللہ عنہم کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا۔ ابومسعود رضی اللہ عنہ نے عمار رضی اللہ عنہ سے کہا ہمارے ساتھ والے جتنے لوگ ہیں میں اگر چاہوں تو تمہارے سوا ان میں سے ہر ایک کا کچھ نہ کچھ عیب بیان کر سکتا ہوں۔ (لیکن تم ایک بےعیب ہو) اور جب سے تم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت اختیار کی، میں نے کوئی عیب کا کام تمہارا نہیں دیکھا۔ ایک یہی عیب کا کام دیکھتا ہوں، تم اس دور میں یعنی لوگوں کو جنگ کے لیے اٹھانے میں جلدی کر رہے ہو۔عمار رضی اللہ عنہ نے کہا ابومسعود رضی اللہ عنہ تم سے اور تمہارے ساتھی ابوموسیٰ اشعری سے جب سے تم دونوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت اختیار کی ہے میں نے کوئی عیب کا کام اس سے زیادہ نہیں دیکھا جو تم دونوں اس کام میں دیر کر رہے ہو۔ اس پر ابومسعود رضی اللہ عنہ نے کہا اور وہ مالدار آدمی تھے کہ غلام! دو حلے لاؤ۔ چنانچہ انہوں نے ایک حلہ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کو دیا اور دوسرا عمار رضی اللہ عنہ کو اور کہا کہ آپ دونوں بھائی کپڑے پہن کر جمعہ پڑھنے چلیں۔

صحیح بخاری حدیث ۷۱۰۶ کا خلاصہ

یہ روایت فتنہ کے زمانے میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے باہمی اختلاف کو بڑے صاف انداز میں دکھاتی ہے۔ ابومسعود رضی اللہ عنہ نے عمار رضی اللہ عنہ سے کہا کہ وہ اس معاملے میں جلدی کر رہے ہیں، یعنی لوگوں کو جنگ کے لیے اٹھانے میں تیزی دکھا رہے ہیں۔ عمار رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ ابومسعود اور ابوموسیٰ رضی اللہ عنہما اس معاملے میں دیر کر رہے ہیں۔ بات سخت تھی، مگر آخر میں ابومسعود رضی اللہ عنہ نے دونوں کے لیے کپڑے منگوائے اور کہا کہ انہیں پہن کر جمعہ پڑھنے جائیں۔ اس سے فتنہ، صحابہ کا اختلاف، جمعہ کی تیاری اور حسن سلوک جیسے اہم پہلو سامنے آتے ہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • اختلاف کے وقت بھی عزت اور شائستگی کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے۔
  • کسی کی غلطی سمجھانے کے باوجود اس کے اچھے پہلو کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔
  • جمعہ کے لیے اچھا لباس پہننے کا اہتمام اس روایت میں نظر آتا ہے۔
  • دینی معاملے میں جلدی اور تاخیر دونوں پر اہل علم کے درمیان رائے ہو سکتی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں