صحیح بخاری حدیث ۷۱۰۴ - فتنہ میں ضبط
فتنہ میں ضبط کی حدیث: اختلاف ہو مگر تعلق نہ ٹوٹے
صحیح بخاری : ۷۱۰۴
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۱۰۴
حَدَّثَنَا بَدَلُ بْنُ الْمُحَبَّرِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو ، سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ ، يَقُولُ : دَخَلَ أَبُو مُوسَى ، وَأَبُو مَسْعُودٍ ، عَلَى عَمَّارٍ حَيْثُ بَعَثَهُ عَلِيٌّ إِلَى أَهْلِ الْكُوفَةِ يَسْتَنْفِرُهُمْ ، فَقَالَا : مَا رَأَيْنَاكَ أَتَيْتَ أَمْرًا أَكْرَهَ عِنْدَنَا مِنْ إِسْرَاعِكَ فِي هَذَا الْأَمْرِ مُنْذُ أَسْلَمْتَ ، فَقَالَ عَمَّارٌ : " مَا رَأَيْتُ مِنْكُمَا مُنْذُ أَسْلَمْتُمَا أَمْرًا أَكْرَهَ عِنْدِي مِنْ إِبْطَائِكُمَا عَنْ هَذَا الْأَمْرِ ، وَكَسَاهُمَا حُلَّةً حُلَّةً ثُمَّ رَاحُوا إِلَى الْمَسْجِدِ " .
ابووائل روایت:
ابوموسیٰ اور ابومسعود رضی اللہ عنہما دونوں عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کے پاس گئے جب انہیں علی رضی اللہ عنہ نے اہل کوفہ کے پاس اس لیے بھیجا تھا کہ لوگوں کو لڑنے کے لیے تیار کریں۔ ابوموسیٰ اور ابومسعود رضی اللہ عنہما دونوں عمار رضی اللہ عنہ سے کہنے لگے جب سے تم مسلمانوں ہوئے ہو ہم نے کوئی بات اس سے زیادہ بری نہیں دیکھی جو تم اس کام میں جلدی کر رہے ہو۔عمار رضی اللہ عنہ نے جواب دیا میں نے بھی جب سے تم دونوں مسلمان ہوئے ہو تمہاری کوئی بات اس سے بری نہیں دیکھی جو تم اس کام میں دیر کر رہے ہو۔ ابومسعود رضی اللہ عنہ نے عمار رضی اللہ عنہ اور ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ دونوں کو ایک ایک کپڑے کا نیا جوڑا پہنایا پھر تینوں مل کر مسجد میں تشریف لے گئے۔
صحیح بخاری حدیث ۷۱۰۴ کا خلاصہ
اس روایت میں وہی واقعہ آتا ہے جس میں ابوموسیٰ اور ابومسعود رضی اللہ عنہما، عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے۔ عمار رضی اللہ عنہ کو علی رضی اللہ عنہ نے اہل کوفہ کو نکلنے پر آمادہ کرنے کے لیے بھیجا تھا۔ دونوں صحابہ نے کہا کہ انہیں عمار رضی اللہ عنہ کا اس معاملے میں جلدی کرنا پسند نہیں۔ عمار رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ انہیں ان دونوں کا دیر کرنا زیادہ ناپسند ہے۔ اس کے بعد ابومسعود رضی اللہ عنہ نے عمار اور ابوموسیٰ رضی اللہ عنہما کو ایک ایک جوڑا پہنایا اور سب مسجد گئے۔ فتنہ میں ضبط کی حدیث کا سبق یہ ہے کہ اختلاف اگر سخت بھی ہو، تو زبان، تعلق اور دینی اجتماع کو بچایا جا سکتا ہے۔ متن میں جھگڑے کو ذاتی دشمنی بنانے کا ذکر نہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سخت اختلاف کو ذاتی دشمنی بنانا ضروری نہیں۔
- صحابہ نے ایک دوسرے کی رائے پر تنقید کی مگر تعلق باقی رکھا۔
- کپڑے دینا اچھے برتاؤ کی علامت کے طور پر آیا ہے۔
- مسجد جانا اس بات کو دکھاتا ہے کہ دینی رشتہ باقی تھا۔
