صحیح بخاری حدیث ۷۱۱۸ - حجاز کی آگ

حجاز کی آگ: قیامت کی بڑی نشانی

صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۱۱۸

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ : أَخْبَرَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَخْرُجَ نَارٌ مِنْ أَرْضِ الْحِجَازِ تُضِيءُ أَعْنَاقَ الْإِبِلِ بِبُصْرَى " .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”قیامت قائم نہ ہو گی یہاں تک کہ سر زمین حجاز سے ایک آگ نکلے گی اور بصریٰ میں اونٹوں کی گردنوں کو روشن کر دے گی۔“

صحیح بخاری حدیث ۷۱۱۸ کا خلاصہ

اس حدیث میں قیامت کی ایک واضح نشانی بیان ہوئی ہے۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ قیامت قائم نہ ہو گی یہاں تک کہ سرزمین حجاز سے ایک آگ نکلے گی جو بصریٰ میں اونٹوں کی گردنوں کو روشن کر دے گی۔ متن میں دو مقامات کا ذکر ہے: حجاز، جہاں سے آگ نکلے گی، اور بصریٰ، جہاں تک اس کی روشنی کا اثر بیان ہوا۔ اس سے زیادہ تفصیل حدیث کے دیے گئے متن میں موجود نہیں، اس لیے بات کو اسی حد تک رکھنا چاہیے۔ یہ روایت حجاز کی آگ، قیامت کی نشانیاں، بصریٰ کے اونٹ اور آخری زمانے کی حدیث کے طور پر تلاش کی جاتی ہے۔ اس کا اصل مقصد انسان کو قیامت کی حقیقت اور اللہ کے وعدے کی یاد دلانا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • حجاز سے آگ نکلنا قیامت کی نشانیوں میں بیان ہوا ہے۔
  • حدیث میں اس آگ کی روشنی کا اثر بصریٰ تک ذکر کیا گیا ہے۔
  • متن میں اس واقعے کی مزید تفصیل نہیں دی گئی، اس لیے غیر ضروری دعوے نہیں کرنے چاہییں۔
  • قیامت کی نشانیوں کا ذکر انسان کو آخرت کی یاد دلاتا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں