صحیح بخاری حدیث ۷۱۲۶ - مدینہ دجال کے رعب سے محفوظ
دجال اور مدینہ کی حفاظت: فرشتوں کا پہرہ
صحیح بخاری : ۷۱۲۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۱۲۶
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا يَدْخُلُ الْمَدِينَةَ رُعْبُ الْمَسِيحِ لَهَا يَوْمَئِذٍ سَبْعَةُ أَبْوَابٍ عَلَى كُلِّ بَابٍ مَلَكَانِ " ، قَالَ : وَقَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ،عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَدِمْتُ الْبَصْرَةَ ، فَقَالَ لِي أَبُو بَكْرَةَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا .
ابوبکرہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مدینہ پر مسیح دجال کا رعب نہیں پڑے گا۔ اس وقت اس کے سات دروازے ہوں گے اور ہر دروازے پر پہرہ دار دو فرشتے ہوں گے۔“ علی بن عبداللہ نے کہا کہ محمد بن اسحاق نے صالح بن ابراہیم سے روایت کیا، ان سے ان کے والد ابراہیم بن عبدالرحمٰن بن عوف نے بیان کیا کہ میں بصرہ گیا تو مجھ سے ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے یہی حدیث بیان کی۔
صحیح بخاری حدیث ۷۱۲۶ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع دجال اور مدینہ کی حفاظت ہے۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے بتایا کہ مدینہ پر مسیح دجال کا رعب نہیں پڑے گا۔ حدیث کے الفاظ میں اس وقت مدینہ کے سات دروازے ہوں گے، اور ہر دروازے پر دو فرشتے پہرہ دے رہے ہوں گے۔ اس سے یہ بات صاف سمجھ آتی ہے کہ دجال کا فتنہ بہت بڑا ہوگا، لیکن مدینہ کے بارے میں خاص حفاظت بیان کی گئی ہے۔ یہاں بات صرف دجال کے رعب اور مدینہ کے دروازوں پر فرشتوں کے پہرے تک محدود ہے۔ اس حدیث کو پڑھ کر مسلمان کو گھبراہٹ کے بجائے نبی صلى الله عليه وسلم کی دی ہوئی خبر پر یقین رکھنا چاہیے۔ دجال کی حدیث، مدینہ کی حفاظت، اور فرشتوں کا پہرہ جیسے الفاظ اسی مضمون کو سمجھنے میں مدد دیتے ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مدینہ کے بارے میں دجال کے رعب سے خاص حفاظت بیان ہوئی ہے۔
- ہر دروازے پر دو فرشتوں کے پہرے کا ذکر حدیث کے متن میں آیا ہے۔
- دجال کے فتنے کے بارے میں نبی صلى الله عليه وسلم کی خبر کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔
