صحیح بخاری حدیث ۷۱۳۰ - دجال کا پانی اور آگ
دجال کا فتنہ: پانی اور آگ کی حقیقت
صحیح بخاری : ۷۱۳۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۱۳۰
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ ، أَخْبَرَنِي أَبِي ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنْ رِبْعِيٍّ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ فِي الدَّجَّالِ : "إِنَّ مَعَهُ مَاءً وَنَارًا ، فَنَارُهُ مَاءٌ بَارِدٌ ، وَمَاؤُهُ نَارٌ " ، قَالَ أَبُو مَسْعُودٍ : أَنَا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
حذیفہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال کے بارے میں فرمایا کہ اس کے ساتھ پانی اور آگ ہو گی اور اس کی آگ ٹھنڈا پانی ہو گی اور پانی آگ ہو گا۔ ابومسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے بھی یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۷۱۳۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں دجال کے فتنے کی ایک خاص بات بیان ہوئی ہے۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ دجال کے ساتھ پانی اور آگ ہوگی، مگر اس کی آگ ٹھنڈا پانی ہوگی اور اس کا پانی آگ ہوگا۔ حدیث کا مضمون یہی ہے کہ دجال کے ساتھ نظر آنے والی چیزیں دھوکا دینے والی ہوں گی۔ اس روایت میں ہمیں صرف اتنی بات ملتی ہے کہ پانی اور آگ کی ظاہری شکل کے پیچھے اصل حقیقت مختلف ہوگی۔ اس لیے اس حدیث کی وضاحت کرتے ہوئے ہمیں اضافی قصے یا غیر ثابت تفصیل شامل نہیں کرنی چاہیے۔ دجال کا پانی اور آگ، دجال کا فتنہ، اور دجال کی آزمائش جیسے سرچ الفاظ اسی متن سے نکلتے ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دجال کے ساتھ پانی اور آگ کا ذکر حدیث میں آیا ہے۔
- حدیث کے مطابق اس کی آگ ٹھنڈا پانی ہوگی اور پانی آگ ہوگا۔
- دجال کے فتنے میں ظاہر اور حقیقت ایک جیسی نہیں ہوں گی۔
