صحیح بخاری حدیث ۷۱۴۹ - عہدہ مانگنے والے کو منصب نہ دینا

عہدہ مانگنے والے کو منصب نہ دینے کی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۱۴۹

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ بُرَيْدٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَرَجُلَانِ مِنْ قَوْمِي ، فَقَالَ أَحَدُ الرَّجُلَيْنِ : أَمِّرْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَقَالَ الْآخَرُ مِثْلَهُ ، فَقَالَ : إِنَّا لَا نُوَلِّي هَذَا مَنْ سَأَلَهُ ، وَلَا مَنْ حَرَصَ عَلَيْهِ " .

ابوموسیٰ روایت:

میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنی قوم کے دو آدمیوں کو لے کر حاضر ہوا۔ ان میں سے ایک نے کہا کہ یا رسول اللہ! ہمیں کہیں کا حاکم بنا دیجئیے اور دوسرے نے بھی یہی خواہش ظاہر کی۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہم ایسے شخص کو یہ ذمہ داری نہیں سونپتے جو اسے طلب کرے اور نہ اسے دیتے ہیں جو اس کا حریص ہو۔

صحیح بخاری حدیث ۷۱۴۹ کا خلاصہ

اس حدیث میں ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ دو آدمیوں کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ دونوں نے حاکم بنائے جانے کی خواہش ظاہر کی۔ جواب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہم یہ ذمہ داری اس شخص کو نہیں دیتے جو اسے طلب کرے، اور نہ اس کو دیتے ہیں جو اس کا حریص ہو۔ یہ بات بہت صاف ہے کہ دینی مزاج میں منصب خواہش پوری کرنے کا ذریعہ نہیں، بلکہ لوگوں کے معاملات سنبھالنے کی امانت ہے۔ جو شخص خود عہدہ مانگتا ہے، اس کے اندر خواہش کا پہلو غالب ہو سکتا ہے۔ اس لیے حکومت اور امارت کی حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ ذمہ داری کے لیے حرص نہیں، امانت داری چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • جو شخص خود عہدہ مانگے اسے منصب دینے میں احتیاط ہے۔
  • منصب کی حرص ذمہ داری کے لیے اچھی علامت نہیں۔
  • حکومت لوگوں کی خدمت اور امانت کا معاملہ ہے۔
  • دینی معیار میں عہدہ طلبی سے زیادہ اہلیت اور امانت دیکھی جاتی ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں