صحیح بخاری حدیث ۷۱۶۲ - مہر والا خط اور نبوی انگوٹھی

نبوی مہر والی انگوٹھی: خط اور مہر کی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۱۶۲

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " لَمَّا أَرَادَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَكْتُبَ إِلَى الرُّومِ ، قَالُوا : إِنَّهُمْ لَا يَقْرَءُونَ كِتَابًا إِلَّا مَخْتُومًا ، فَاتَّخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا مِنْ فِضَّةٍ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِهِ وَنَقْشُهُ ، مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ " .

انس بن مالک روایت:

جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل روم کو خط لکھنا چاہا تو صحابہ نے کہا کہ رومی صرف مہر لگا ہوا خط ہی قبول کرتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی ایک مہر بنوائی گویا میں اس کی چمک کو اس وقت بھی دیکھ رہا ہوں اور اس پر کلمہ «محمد رسول الله‏.‏» نقش تھا۔

صحیح بخاری حدیث ۷۱۶۲ کا خلاصہ

اس حدیث کا موضوع سرکاری خط، مہر اور نبوی انگوٹھی ہے۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل روم کو خط لکھنے کا ارادہ فرمایا تو صحابہ نے بتایا کہ وہ لوگ صرف مہر لگا ہوا خط قبول کرتے ہیں۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی ایک مہر بنوائی۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ گویا میں آج بھی اس کی چمک دیکھ رہا ہوں، اور اس پر محمد رسول اللہ نقش تھا۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ دعوت، خط و کتابت اور سرکاری پیغام میں مخاطب قوم کے طریقے کو بھی دیکھا گیا۔ مہر کا مقصد خط کی شناخت اور اعتبار تھا۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • اہم خط و کتابت میں شناخت اور اعتماد کا اہتمام کیا گیا۔
  • نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل روم کے طریقے کا لحاظ فرمایا۔
  • چاندی کی مہر پر محمد رسول اللہ نقش تھا۔
  • دینی دعوت میں حکمت اور مناسب ذریعہ اختیار کیا جا سکتا ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں