صحیح بخاری حدیث ۷۱۶۱ - اہل و عیال کا نفقہ

اہل و عیال کا نفقہ: ہند رضی اللہ عنہا کی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۱۶۱

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، حَدَّثَنِي عُرْوَةُ ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : " جَاءَتْ هِنْدٌ بِنْتُ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَاللَّهِ مَا كَانَ عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ أَهْلُ خِبَاءٍ أَحَبَّ إِلَيَّ أَنْ يَذِلُّوا مِنْ أَهْلِ خِبَائِكَ ، وَمَا أَصْبَحَ الْيَوْمَ عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ أَهْلُ خِبَاءٍ أَحَبَّ إِلَيَّ أَنْ يَعِزُّوا مِنْ أَهْلِ خِبَائِكَ ، ثُمَّ قَالَتْ : إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ رَجُلٌ مِسِّيكٌ ، فَهَلْ عَلَيَّ مِنْ حَرَجٍ أَنْ أُطْعِمَ مِنَ الَّذِي لَهُ عِيَالَنَا ؟ ، قَالَ لَهَا : لَا حَرَجَ عَلَيْكِ أَنْ تُطْعِمِيهِمْ مِنْ مَعْرُوفٍ " .

عائشہ روایت:

ہند بنت عتبہ بن ربیعہ آئیں اور کہا: یا رسول اللہ! روئے زمین کا کوئی گھرانہ ایسا نہیں تھا جس کے متعلق اس درجہ میں ذلت کی خواہشمند ہوں جتنا آپ کے گھرانہ کی ذلت و رسوائی کی میں خواہشمند تھی لیکن اب میرا یہ حال ہے کہ میں سب سے زیادہ خواہشمند ہوں کہ روئے زمین کے تمام گھرانوں میں آپ کا گھرانہ عزت و سربلندی والا ہو۔ پھر انہوں نے کہا کہ ابوسفیان رضی اللہ عنہ بخیل آدمی ہیں، تو کیا میرے لیے کوئی حرج ہے اگر میں ان کے مال میں سے (ان کی اجازت کے بغیر لے کر) اپنے اہل و عیال کو کھلاؤں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ تمہارے لیے کوئی حرج نہیں ہے، اگر تم انہیں دستور کے مطابق کھلاؤ۔

صحیح بخاری حدیث ۷۱۶۱ کا خلاصہ

اس حدیث میں ہند بنت عتبہ رضی اللہ عنہا کا سوال ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ابوسفیان رضی اللہ عنہ بخیل آدمی ہیں، تو کیا وہ ان کے مال میں سے اپنے اہل و عیال کو کھلا سکتی ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم انہیں دستور کے مطابق کھلاؤ تو تم پر کوئی حرج نہیں۔ اس حدیث کا اصل موضوع نفقہ اور گھر والوں کا خرچ ہے۔ یہاں اجازت کو کھلی چھوٹ نہیں بنایا گیا، بلکہ معروف یعنی عام دستور اور مناسب حد کے ساتھ رکھا گیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ گھر کے افراد کی ضروری خوراک اور خرچ کا حق ہے، مگر معاملہ انصاف، ضرورت اور معروف طریقے سے ہونا چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • اہل و عیال کا مناسب خرچ ایک حق ہے۔
  • شوہر کے مال سے لینے کی اجازت معروف حد تک بیان ہوئی۔
  • ضرورت اور دستور کے مطابق خرچ کرنے کی قید اہم ہے۔
  • مالی معاملات میں زیادتی اور بے قاعدگی سے بچنا چاہیے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں