صحیح بخاری حدیث ۷۱۷۵ - امامت میں اہلیت
امامت کی اہلیت: سالم رضی اللہ عنہ کی مسجد قباء میں امامت
صحیح بخاری : ۷۱۷۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۱۷۵
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَنَّ نَافِعًا أَخْبَرَهُ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَخْبَرَه قَالَ : "كَانَ سَالِمٌ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ يَؤُمُّ الْمُهَاجِرِينَ الْأَوَّلِينَ ، وَأَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَسْجِدِ قُبَاءٍ ، فِيهِمْ أَبُو بَكْرٍ ، وَعُمَرُ ، وَأَبُو سَلَمَةَ ، وَزَيْدٌ ،وَعَامِرُ بْنُ رَبِيعَةَ " .
عبداللہ بن عمر روایت:
ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کے (آزاد کردہ غلام) سالم، مہاجر اولین کی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دوسرے صحابہ رضی اللہ عنہم مسجد قباء میں امامت کیا کرتے تھے۔ ان اصحاب میں ابوبکر، عمر، ابوسلمہ، زید اور عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہم بھی ہوتے تھے۔
صحیح بخاری حدیث ۷۱۷۵ کا خلاصہ
اس حدیث کا موضوع امامت اور اہلیت ہے۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سالم مولیٰ ابی حذیفہ مہاجرین اولین اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دوسرے صحابہ کی مسجد قباء میں امامت کیا کرتے تھے۔ ان کے پیچھے ابوبکر، عمر، ابوسلمہ، زید اور عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہم جیسے صحابہ بھی نماز پڑھتے تھے۔ حدیث کا متن بہت واضح ہے کہ امامت میں ایک شخص کی عملی اہلیت کو قبول کیا گیا۔ یہاں نسب، مقام یا سماجی درجے کی بحث نہیں، بلکہ واقعہ یہ بتایا گیا کہ سالم رضی اللہ عنہ امامت کرتے تھے اور بڑے صحابہ ان کے پیچھے نماز ادا کرتے تھے۔ امامت کی حدیث میں یہ بات بہت صاف ہے کہ نماز کی قیادت سنجیدہ ذمہ داری ہے اور اہل شخص کو آگے کیا جا سکتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مسجد قباء میں سالم رضی اللہ عنہ امامت کرتے تھے۔
- مہاجرین اولین اور بڑے صحابہ ان کے پیچھے نماز پڑھتے تھے۔
- امامت میں اہلیت اور قبولیت کا پہلو سامنے آتا ہے۔
- نماز کی قیادت ایک ذمہ دار دینی عمل ہے۔
