صحیح بخاری حدیث ۷۱۹۴ - زنا کے مقدمے میں شرعی فیصلہ
زنا کے مقدمے کا فیصلہ: کتاب اللہ پر عمل کی حدیث
صحیح بخاری : ۷۱۹۴
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۱۹۴
حَدَّثَنَا آدَمُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، قَالَا : " جَاءَ أَعْرَابِيٌّ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، اقْضِ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللَّهِ ، فَقَامَ خَصْمُهُ ، فَقَالَ : صَدَقَ ، فَاقْضِ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللَّهِ ، فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ : إِنَّ ابْنِي كَانَ عَسِيفًا عَلَى هَذَا ، فَزَنَى بِامْرَأَتِهِ ، فَقَالُوا لِي : عَلَى ابْنِكَ الرَّجْمُ ، فَفَدَيْتُ ابْنِي مِنْهُ بِمِائَةٍ مِنَ الْغَنَمِ وَوَلِيدَةٍ ، ثُمَّ سَأَلْتُ أَهْلَ الْعِلْمِ ، فَقَالُوا : إِنَّمَا عَلَى ابْنِكَ جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ عَامٍ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَأَقْضِيَنَّ بَيْنَكُمَا بِكِتَابِ اللَّهِ ، أَمَّا الْوَلِيدَةُ وَالْغَنَمُ فَرَدٌّ عَلَيْكَ وَعَلَى ابْنِكَ جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ عَامٍ ، وَأَمَّا أَنْتَ يَا أُنَيْسُ لِرَجُلٍ فَاغْدُ عَلَى امْرَأَةِ هَذَا ، فَارْجُمْهَا " ، فَغَدَا عَلَيْهَا أُنَيْسٌ ، فَرَجَمَهَا .
ابوہریرہ اور زید بن خالد جہنی روایت:
ایک دیہاتی آئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمارا فیصلہ کتاب اللہ کے مطابق کر دیجئیے۔ پھر دوسرے فریق کھڑے ہوئے اور انہوں نے بھی کہا کہ یہ صحیح کہتے ہیں، ہمارا فیصلہ کتاب اللہ سے کر دیجئیے۔ پھر دیہاتی نے کہا میرا لڑکا اس شخص کے یہاں مزدور تھا، پھر اس نے اس کی بیوی کے ساتھ زنا کر لیا تو لوگوں نے مجھ سے کہا کہ تمہارے لڑکے کا حکم اسے رجم کرنا ہے لیکن میں نے اپنے لڑکے کی طرف سے سو بکریوں اور ایک باندی کا فدیہ دے دیا۔ پھر میں نے اہل علم سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ تمہارے لڑکے کو سو کوڑے مارے جائیں گے اور ایک سال کے لیے شہر بدر ہو گا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تمہارے درمیان اللہ کی کتاب کے مطابق فیصلہ کروں گا۔ باندی اور بکریاں تو تمہیں واپس ملیں گی اور تیرے لڑکے کی سزا سو کوڑے اور ایک سال کے لیے جلا وطن ہونا ہے اور انیس (جو ایک صحابی تھے) سے فرمایا کہ تم اس کی بیوی کے پاس جاؤ اور اسے رجم کرو۔ چنانچہ انیس رضی اللہ عنہ اس کے پاس گئے اور اسے رجم کیا۔
صحیح بخاری حدیث ۷۱۹۴ کا خلاصہ
یہ روایت اسی مقدمے کو بیان کرتی ہے جس میں ایک دیہاتی نے کہا کہ ہمارا فیصلہ کتاب اللہ کے مطابق کر دیجئے۔ اس کے لڑکے نے مزدوری کے دوران دوسرے شخص کی بیوی کے ساتھ زنا کیا تھا۔ لوگوں کی بات پر اس نے سو بکریاں اور ایک باندی فدیہ میں دے دی، مگر بعد میں اہل علم سے پوچھا تو اسے مختلف حکم معلوم ہوا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا کہ باندی اور بکریاں واپس کی جائیں گی، لڑکے پر سو کوڑے اور ایک سال جلا وطنی ہے، اور عورت کے معاملے میں انیس رضی اللہ عنہ کو حکم دیا گیا۔ اس حدیث میں صاف بات ہے کہ شرعی فیصلہ علم کی بنیاد پر ہو گا، افواہ یا دباؤ پر نہیں۔ کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ، حدود، زنا کا حکم، اور حق کی واپسی اس روایت کے بنیادی مضامین ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- شرعی مسئلہ لوگوں کی باتوں سے نہیں، علم سے سمجھا جائے۔
- غلط فدیہ یا ناجائز مالی لین دین واپس کیا جا سکتا ہے۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں فریقوں کے درمیان واضح فیصلہ فرمایا۔
- حدود کے فیصلے میں احتیاط اور شرعی طریقہ لازم ہے۔
